سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(435) سفید بالوں کا اکھاڑنا

  • 20698
  • تاریخ اشاعت : 2017-05-16
  • مشاہدات : 264

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میرے ایک ساتھی عالم دین ہیں، انہوں نے یہ مسئلہ بیا ن کیا ہے کہ سفید بالوں کا اکھاڑنا جائز نہیں لیکن وہ قرآن و حدیث سے اس کا حوالہ نہیں دے سکے، قرآن و حدیث سے اس کا حوالہ درکار ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

سفید بال خواہ سر میں ہوں یا داڑھی میں انہیں اکھاڑنا جائز نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑھاپے کے (سفید) بال اکھاڑنے سے منع فرمایا ہے اور کہا ہے کہ وہ مومن کا نور ہیں۔[1]

ایک دوسری روایت کے الفاظ اس طرح ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ سفید بال مت نوچا کرو کیونکہ جس کسی مسلمان کے بال حالتِ اسلام میں سفید ہو جائیں تو قیامت کے دن یہ اس کے لئے نور کا باعث ہوں گے۔‘‘

ایک روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک ایک بال کے عوض اس کی نیکی لکھتا ہے اور ایک گناہ دور کرتا ہے۔ [2]

ان احادیث کے پیش نظر سفید بال داڑھی میں ہوں یا سر میں انہیں دانتوں سے کاٹنا یا اکھاڑنا جائز نہیں اور نہ ہی کالا رنگ کرنا جائز ہے البتہ سیاہ رنگ کے علاوہ دوسرا کوئی بھی رنگ کیا جا سکتا ہے۔ ایک دوسری حدیث میں ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفید بال اکھاڑنے کی ممانعت فرمائی تو ایک آدمی نے آپ سے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! لوگ تو بڑھاپے کے سفید بال اکھاڑتے ہیں، آپ نے فرمایا : جو چاہے اپنے نور کو اکھاڑے۔ [3]

حضرت انس رضی اللہ عنہ اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ آدمی اپنے سر اور اپنی داڑھی کے سفید بالوں کو اکھاڑے۔ [4]

لہٰذا انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے سر یا داڑھی کی سفید بالوں کو نوچنے یاا کھاڑنے سے اجتناب کرے۔


[1] ابن ماجه، الادب: ۳۷۲۱۔

[2] سنن أبي داؤد: ۴۲۰۲۔

[3] کشف الاستار : ۲۹۷۳۔

[4] صحیح مسلم، الفضائل : ۲۳۴۱۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد4۔ صفحہ نمبر:388

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ