سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(430) دورانِ تلاوت سلام کا جواب دینا

  • 20693
  • تاریخ اشاعت : 2017-05-16
  • مشاہدات : 433

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اگر کوئی آدمی قرآن مجید کی تلاوت کر رہا ہو تو کیا اسے سلام کہا جا سکتا ہے، اگر سلام کہنا جائز ہے تو کیا وہ دورانِ تلاوت سلام کا جواب دے سکتا ہے، قرآن و حدیث کے مطابق اس کا جواب دیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ہمارے ہاں کچھ مسائل ایسے ہیں جو لوگوں میں مشہور ہیں لیکن کتاب و سنت میں ان کا کوئی ثبوت نہیں، مثلا: کھانا کھانے والے اور دورانِ جماعت نماز پڑھنے والوں کو سلام نہیں کرنا چاہیے، حالانکہ قرآن و حدیث میں اس کے متعلق کوئی ممانعت وارد نہیں۔ اسی طرح یہ بھی مشہور ہے کہ جب کوئی قرآن مجید کی تلاوت کر رہا ہو تو اسے سلام نہیں کرنا چاہیے اور نہ اسے سلام کا جواب دینے کی اجازت ہے حالانکہ احادیث میں وارد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے اس کا ثبوت ملتا ہے جیسا کہ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم مسجد میں بیٹھے قرآن مجید کی تلاوت کر رہے تھے اس دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، آپ نے ہمیں سلام کیا تو ہم نے آپ کے سلام کا جواب دیا۔ (مسند احمد ص150ج4)

اس حدیث سے درج ذیل باتیں ثابت ہوتی ہیں:

٭ مسجد میں داخل ہوتے وقت حاضرین کو سلام کہنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے۔ ٭ قرآن مجید کی تلاوت کرنے والے کو سلام کہنے میں کوئی حرج نہیں۔ ٭ قرآن مجید پڑھنے والا دوران تلاوت سلام کا جواب دے سکتا ہے۔

بہرحال قرآن مجید کی تلاوت سلام کہنے اور جواب دینے کے لئے رکاوٹ کا باعث نہیں ہے۔

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد4۔صفحہ نمبر 385

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ