سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(610) عورتوں کا ختنہ کرنا

  • 2068
  • تاریخ اشاعت : 2012-09-09
  • مشاہدات : 3466

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
عرب اور افریقہ میں عورتوں کا ختنہ کیا جاتا ہے کیا اسلام میں اس کا کوئی تصور ہے؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

عرب اور افریقہ میں عورتوں کا ختنہ کیا جاتا ہے کیا اسلام میں اس کا کوئی تصور ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

صاحب عون المعبود ۴/۵۴۳نے عورت کے ختنہ پر احادیث کو جمع کیا ہے آخر میں لکھا ہے :

«وَحَدِيْثُ خِتَانِ الْمَرْأَةِ رُوِیَ مِنْ أَوْجُهٍ کَثِيْرَةٍ ، وَکُلُّهَا ضَعِيْفَةٌ مَعْلُوْلُةٌ مَخْدُوْشَةٌ لاَ يَصِحُّ الْاِحْتِجَاجُ بِهَا کَمَآ عَرَفْتَ، وَقَالَ ابْنُ الْمُنْذِرِ : لَيْسَ فِی الْخَتَانِ خَبْرٌ يُرْجَعُ إِلَيْهِ وَلاَ سُنَّةٌ يُتَّبَعُ ۔ وَقَالَ ابْنُ عَبْدِ الْبَرِّ فِی التَّمْهِيْدِ: وَالَّذِیْ أَجْمَعَ عَلَيْهِ الْمُسْلِمُوْنَ أَنَّ الْخَتَانَ لِلرِّجَالِ»

’’اور عورت کے ختنہ کی حدیث کئی سندوں سے مروی ہے جو سب ضعیف معلول اور مخدوش ہیں ان سے حجت پکڑنا صحیح نہیں جس طرح آپ پہچان گئے اور ابن منذر نے کہا ختان میں کوئی حدیث نہیں جس کی طرف رجوع کیا جائے اور نہ کوئی سنت ہے جس کی پیروی کی جائے اور ابن عبدالبر نے تمہید میں کہا وہ چیز جس پر مسلمانوں کا اجماع ہے کہ ختنہ مردوں کے لیے ہے۔ انتہی واﷲ اعلم

روایت «الخِتَانُ سُنَّةٌ لِلرِّجَالِ ، وَمَکْرُمَةٌ لِلنِّسَاءِ» ’’ختنہ سنت ہے واسطے مردوں کے اور کریمانہ فعل ہے واسطے عورتوں کے‘‘ کی بعض اسانید کوامام سیوطی نے حسن قرار دیا ہے مگر اکثر اہل علم اس کو ضعیف ہی قرار دیتے ہیں حتی کہ محدث وقت شیخ البانی حفظہ اللہ تعالیٰ نے بھی اسے ضعیف جامع صغیر اور سلسلہ ضعیفہ ہی میں ذکر فرمایا ہے رسول اللہﷺ نے ختان کو خصال فطرت میں ذکر فرمایا ہے وہاں مرد کی تخصیص نہیں فرمائی صحیح بخاری کتاب المغازی باب قتل حمزۃ ۲/۵۸۳ میں ہے غزوئہ احد میں جب قتال کے لیے لوگ صف بستہ ہو گئے تو سباع نامی کافر نے نکل کر للکارا :

 «هَلْ مِنْ مُبَارِزٍ قَالَ : فَخَرَجَ إِلَيْهِ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِالْمُطَّلِبِ ، فَقَالَ : يَا سِبَاعُ يَا ابْنَ أُمِّ أَنْمَارٍ مُقَطِّعَةِ الْبُظُوْرِ أَتُحَادُّ اﷲَ وَرَسُوْلَهُ ۔ قَالَ : ثُمَّ شَدَّ عَلَيْهِ فَکَانَ کَأَمْسِ الذَّاهِبِ»

’’کیا کوئی ہے جو مجھ سے لڑے یہ سنتے ہی حمزہ بن عبدالمطلب اس کے مقابلہ کے لیے نکلے اور کہنے لگے ارے سباع ارے ام انمار (حجامنی) کے بیٹے تیری ماں تو عورتوں کے ٹنے تراشا کرتی تھی کمبخت نائن تھی اور تو اللہ ورسول سے مقابلہ کرتا ہے یہ کہہ کر حمزہ نے اس پر حملہ کیا اور جیسے کل کا دن گزر جاتا ہے اس طرح صفحہ ہستی سے اس کو نابود کر دیا‘‘ اس سے ثابت ہوتا ہے نزول شریعت کے زمانہ میں عربوں میں عورت کا ختنہ کیا جاتا تھا مگر کتاب وسنت میں کہیں اس کی تردید وارد نہیں ہوئی تو پتہ چلا کہ اسلام میں بھی عورت کے ختنہ کا بھی تصور ہے۔

وباللہ التوفیق

احکام و مسائل

قربانی اور عقیقہ کے مسائل ج1ص 443

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ