سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(390) طلاق کے بعد رجوع

  • 20651
  • تاریخ اشاعت : 2017-05-16
  • مشاہدات : 108

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
میں نے اپنی بیوی کو اس کے ناروا رویے کے پیش نظر ایک طلاق دی، وہ ناراض ہو کر میکے چلی گئی، میں نے فون پر دورانِ عدت رجوع کر لیا لیکن میرے سسر اس رجوع کو نہیں مانتے بلکہ میری طلاق کو بنیاد بنا کر میری بیوی کے عقد ثانی کے لئے آگے کسی سے بات شروع کر دی ہے، ایسے حالات میں میرے لئے کیا حکم ہے؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میں نے اپنی بیوی کو اس کے ناروا رویے کے پیش نظر ایک طلاق دی، وہ ناراض ہو کر میکے چلی گئی، میں نے فون پر دورانِ عدت رجوع کر لیا لیکن میرے سسر اس رجوع کو نہیں مانتے بلکہ میری طلاق کو بنیاد بنا کر میری بیوی کے عقد ثانی کے لئے آگے کسی سے بات شروع کر دی ہے، ایسے حالات میں میرے لئے کیا حکم ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اگر بیوی کا خاوند کے ساتھ رویہ درست نہیں تو طلاق دینے سے پہلے چند ایک مراحل ہیں، خاوند کو چاہئے کہ پہلے ان کو عمل میں لائے پھر اگر حالات درست نہ ہوں تو آخری چارہ کار طلاق ہے۔ اگرچہ شریعت نے اسے ناپسندیدہ قرار دیا ہے تاہم ناگزیر حالات میں طلاق دینے کی اجازت ہے اور طلاق دینا خاوند کا حق ہے جسے وہ بامر مجبوری استعمال کر سکتا ہے جیسا کہ صورت مسئولہ میں خاوند نے اس حق کو استعمال کیا ہے، اب اس طلاق کے بعد دورانِ عدت اسے رجوع کا حق ہے۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالٰی ہے: "ان کے شوہر تعلقات درست کر لینے پر آمادہ ہوں تو وہ اس عدت کے دوران میں پھر اپنی زوجیت میں واپس لینے کے زیادہ حقدار ہیں۔" (البقرۃ:87)

اس آیت کریمہ سے معلوم ہوا کہ جس طرح خاوند کو اللہ تعالٰی نے طلاق دینے کا حق دیا ہے، اسی طرح اسے طلاق کے بعد دورانِ عدت رجوع کر لینے کا حق بھی دیا ہے، لیکن یاد رہے کہ خاوند صرف دو مرتبہ حق رجوع استعمال کر سکتا ہے۔ جو شخص دو مرتبہ طلاق دے کر اس سے رجوع کر چکا ہو، پھر وہ اپنی عمر میں جب کبھی تیسری طلاق دے گا تو پھر رجوع نہیں کر سکے گا بلکہ وہ عورت مستقل طور پر اس سے جدا ہو جائے گی۔

بہرحال سائل کو پہلی طلاق کے بعد رجوع کا حق ہے جو اس نے استعمال کر لیا ہے، بیوی کے والد کو درمیان میں حائل نہیں ہونا چاہئے، اگر پہلی اور دوسری طلاق کے بعد عدت گزر جائے تب بھی تجدید نکاح سے رجوع ہو سکتا ہے۔ قرآن کریم نے عورت کے سرپرست حضرات کو تنبیہ کی ہے کہ وہ اس "حق رجوع" کے درمیان رکاوٹ نہ بنیں۔ ارشاد باری تعالٰی ہے: "اور جب تم اپنی عورتوں کو طلاق دو اور وہ اپنی عدت پوری کر لیں تو انہیں ان کے خاوندوں سے نکاح کرنے سے مت روکو جب کہ وہ آپس میں دستور کے مطابق رضامند ہوں۔" (البقرۃ:232)

اس آیت کی روشنی میں سرپرست حضرات کو چاہئے کہ وہ اسے عزت نفس کا مسئلہ نہ بنائیں اور خاوند نے اگر رجوع کر لیا ہے تو بیٹی کا گھر آباد ہونے میں رکاوٹ نہ بنیں۔ (واللہ اعلم)

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد4۔صفحہ نمبر 344

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ