سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(606) عقیقہ کا ثبوت

  • 2064
  • تاریخ اشاعت : 2012-09-09
  • مشاہدات : 2199

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا عقیقہ کرنا نبیﷺ سے ثابت ہے کیونکہ مجھے کسی نے بتایا کہ یہ حدیث ضعیف ہے اور کیا چھ سات لڑکے لڑکیوں کا عقیقہ ایک ہی گائے یا کوئی بڑا جانور لے کر کیا جا سکتا ہے کہ نہیں اور کیا عقیقہ کے لیے مُسِنَّہ لازمی ہے کہ نہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

صحیح بخاری ص۸۲۲ ج۲ میں ہے رسول اللہﷺنے فرمایا :

«مَعَ الْغُلاَمِ عَقِيْقَةٌ فَأَهْرِيْقُوْا عَنْهُ دَمًا ، وَأَمِيْطُوْا عَنْهُ الْأَذَی»

’’ہر پیدا ہونے والے لڑکے کے ساتھ عقیقہ ہے اس کی طرف سے جانور ذبح کرو اور اس سے ایذا کو دور کرو‘‘ گائے ، اونٹ اور بھینس کا عقیقہ درست نہیں کیونکہ ترمذی میں رسول اللہﷺ کا فرمان ہے:

«عَنِ الْغُلاَمِ شَاتَانِ ، وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ»(ترمذى الجلد الاول ابواب الاضاحى-باب ما جاء فى العقيقة)

’’لڑکے کی طرف سے دو بکریاں ذبح کرو عقیقہ میں اور لڑکی کی طرف سے ایک‘‘ اور شاۃ میں صرف بھیڑ اور بکری کی جنس آتی ہے گائے اور اونٹ شاۃ میں شامل نہیں تو بڑے جانور کو ایک لڑکے یا لڑکی کے عقیقہ میں بھی ذبح نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی چھ سات لڑکے لڑکیوں کے عقیقہ میں ذبح کیا جا سکتا ہے اونٹ اور گائے کے عقیقہ کے متعلق ایک روایت پیش کی جاتی ہے مگر وہ کمزور ہے عقیقہ کے جانور کے لیے مسنہ (دو دانتا یا اس کے اوپر والا) ہونا کوئی لازمی نہیں بعض اہل علم اضحیہ قربانی پر قیاس کرتے ہیں اور مسنہ کو لازمی قرار دیتے ہیں لیکن نص میں شاتان اور شاۃ عام ہیں مسنہ اور غیر مسنہ دونوں کو شامل ہیں تو نص مقدم ہے لہٰذا عقیقہ میں مسنہ لازمی نہیں۔

    ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

احکام و مسائل

قربانی اور عقیقہ کے مسائل ج1ص 441

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ