سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(605) فقراء کی موجودگی میں عیدگاہ کی بناوٹ پر قربانی کی کھالیں صرف کرنا

  • 2063
  • تاریخ اشاعت : 2012-09-09
  • مشاہدات : 507

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

فقراء مساکین کی موجودگی میں قربانی کی کھالوں کو عید گاہ میں مٹی ڈالوانے اور چار دیواری کرانے پر صرف کرنا قرآن وحدیث کی روشنی میں کیسا ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

صحیح مسلم ص ۴۲۴ ج۱ میں ہے :

«أَنَّ عَلِیَّ بْنَ أَبِیْ طَالِبٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ نَبِیَّ اﷲِﷺأَمَرَهُ أَنْ يَقُوْمَ عَلَی بُدْنِهِ وَأَمَرَهُ أَنْ يَّقْسِمَ بُدْنَهُ کُلَّهَا لُحُوْمَهَا وَجُلُوْدَهَا وَجِلاَلَهَا فِی الْمَسَاکِيْنِ ، وَلاَ يُعْطِیْ فِی جِزَارَتِهَا مِنْهَا شَيْئًا»(صحيح مسلم-كتاب الحج-باب الصدقة بلحوم الهدايا وجلودها وجلالها وان لايعطى الجزار منها شيئا وجواز الاستنابة فى القيام عليها)

اللہ کے نبیﷺ نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ رسول اللہﷺکے قربانی کے اونٹوں کی دیکھ بھال فرمائیں ، انہیں حکم دیا کہ ان قربانیوں کے گوشتوں ، کھالوں اور جلوں کو مساکین میں تقسیم فرما دیں اور ان کی جزارت (ذبح کرنے ) کی اجرت میں ان قربانیوں سے کوئی چیز نہ دیں۔

    ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

احکام و مسائل

قربانی اور عقیقہ کے مسائل ج1ص 441

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ