سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(344) مطلقہ کا بچوں کے ساتھ رہنا

  • 20605
  • تاریخ اشاعت : 2017-05-15
  • مشاہدات : 116

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ہے، بچوں کی وجہ سے ہم ایک ہی جگہ پر رہتے ہیں لیکن گفتگو وغیرہ سے اجتناب کرتے ہیں، کیا ایسا کرنا جائز ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

عورت، خاوند کی طلاق کے بعد جب اپنی عدت پوری کر لے تو وہ اس کے لئے اجنبی بن جاتی ہے، اس کے بعد دونوں کا اکٹھے رہنا فحاشی اور بے حیائی کو دعوت دینا ہے، کسی اجنبی عورت کے ساتھ اس طرح رہنا کسی مذہب میں بھی جائز نہیں چہ جائیکہ اسلام میں رہتے ہوئے ایسا کام کیا جائے، جو انسان اپنی اصلاح چاہتا ہے اسے چاہئے کہ اپنے بچوں کی خاطر خود کو اس فتنہ اختلاط میں مبتلا نہ کرے، طلاق دینے کے بعد، اس کی عدت گزرتے ہی دونوں ایک دوسرے کے لئے اجنبی ہو چکے ہیں اور اجنبی کو دیکھنا اللہ تعالٰی نے حرام کیا ہے۔

ارشاد باری تعالٰی ہے: "مومن مردوں سے کہہ دیں کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں یہ ان کے لئے زیادہ پاکیزہ ہے، یقینا اللہ تعالٰی جو کچھ وہ کرتے ہیں اس سے باخبر ہے۔" (النور:31)

اسی طرح اللہ تعالٰی نے اہل ایمان خواتین کو بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم دیا ہے، اس بنا پر طلاق یافتہ بیوی کو چاہئے کہ وہ اللہ تعالٰی سے ڈرے اور اپنے سابقہ خاوند سے علیحدگی اختیار کرے، اللہ تعالٰی اس کے لئے کوئی راستہ پیدا فرمائے گا جس سے وہ اپنی عزت و آبرو کی حفاظت کے ساتھ زندگی گزار سکے۔ (واللہ اعلم)

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد4۔صفحہ نمبر 310

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ