سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
(302) وارث کے لیے وصیت کرنا
  • 20563
  • تاریخ اشاعت : 2024-05-25
  • مشاہدات : 836

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میرے والد نے فوت ہو نے سے قبل میرے بڑے بھائی کے لیے وصیت کی کہ رہائشی مکان اسے دیا جائے اور باقی جائیداد تمام بھائی تقسیم کر لیں، کیا ایساکرنا جائزہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

 وصیت کے جائز ہو نے کے لیے تین اصول حسب ذیل ہیں۔ 1وصیت ایک تہائی سے زیادہ نہ ہو ۔ 2وصیت کسی ناجائز کام کے لیے نہ ہو ۔3وصیت کسی شرعی وارث کے لیے نہ ہو۔ صورت مسؤلہ میں چونکہ وصیت بڑے بیٹے کے لیے ہے جو مرحوم کا وارث ہے لہذا یہ وصیت جائز نہیں، یہ کالعدم ہے۔ اس سلسلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے :

 ’’اللہ تعالیٰ نے ہر حق دار کو اس کا حق دے دیا ہے لہذا کسی وارث کے لیے وصیت کرنا جائز نہیں۔ ‘‘[1]

اس قسم کی ناجائز وصیت پر عمل کرنا شرعاًدرست نہیں بلکہ اس کی اصلاح کرنا ضروری ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’ہاں جو شخص وصیت کر نے والے کی طرف سے جانبداری یا کسی کی حق تلفی کا خطرہ محسوس کرے اور وہ اس کی اصلاح کر دے تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔ ‘‘[2]ہمارے رجحان کے مطابق یہ وصیت ناجائز ہے اور اس پر عمل کرنا شرعاً درست نہیں۔ (واللہ اعلم)


[1] ابو داؤد ، الوصایا:۲۸۷۰۔

[2] البقرة :۱۸۲۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد4۔ صفحہ نمبر:280

محدث فتویٰ

تبصرے