سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(265) بینک کا نفع

  • 20526
  • تاریخ اشاعت : 2017-04-12
  • مشاہدات : 225

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

بنک والے سیونگ کھاتے میں رکھے ہوئے سرمایہ پر نفع دیتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ وہ اسے کاروبار میں لگاتے ہیں، کیا یہ منافع بھی سود کے ضمن میں آتے ہیں، اس کے متعلق تفصیلی فتویٰ درکار ہے۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

بنک میں عام طور پر ہر دو قسم کے کھاتے ہوتے ہیں، ایک کرنٹ کھاتہ اور دوسرا سیونگ کھاتہ، کرنٹ میں رکھی گئی رقم پر بنک کسی قسم کا نفع نہیں دیتا اور نہ ہی اس سے زکوۃ کی رقم کاٹی جاتی ہے، البتہ بنک اس رقم کو اپنے استعمال میں ضرور لاتا ہے اور اسے دوسروں کو سود پر دیتا ہے، ہمارے رجحان کے مطابق اس کھاتے کے ذریعے گناہ اور ظلم پر بنک کا تعاون کیا جاتا ہے جس کی قرآن میں ممانعت ہے، ارشاد باری تعالٰی ہے:

"نیکی اور پرہیزگاری کے کاموں میں ایک دوسرے کا تعاون کرو، ظلم اور گناہ میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔" (المائدہ:2)

اگرچہ کرنٹ کھاتے میں رکھی ہوئی رقم پر اس کے اصل مالک کو کچھ نہیں دیا جاتا تاہم اس رقم کو سودی کاروبار کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ بنک میں دوسرا کھاتہ سیونگ کہلاتا ہے، اس رقم پر اصل مالک کو سود بھی دیا جاتا ہے جسے بنک والے منافع کا نام دیتے ہیں۔ لیکن نام کی تبدیلی سے حقیقت نہیں بدلی جاتی، لوگوں کو پھانسنے کے لیے اس کھاتے کے مختلف نام ہیں۔ مثلا شراکتی کھاتہ، نفع اور نقصان کی بنیاد پر شراکت داری، اس کا مشہور نام (P.L.S) ہے، اس کھاتے میں رکھی ہوئی رقم کو آگے بھاری سود پر دوسروں کو دیا جاتا ہے، پھر اس سود کو ایک خاص شرح سے اصل مالک کے کھاتے میں جمع کر دیا جاتا ہے، اگرچہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اس کھاتے میں جمع شدہ رقم کو کاروبار میں لگایا جاتا ہے اور اکاؤنٹ ہولڈر کی حیثیت ایک شریک کی ہوتی ہے لیکن زمینی حقائق اس دعویٰ کے منافی ہیں، کیونکہ اس میں سودی رقم کو مارک اپ جیسے حسین الفاظ کا نام دیا گیا ہے، بہرحال ہمارے رجحان کے مطابق سیونگ کھاتے میں رکھی ہوئی رقم پر ملنے والے "منافع" سود ہی ہیں، ایک مسلمان کو اس سے اجتناب کرنا ضروری ہے، اگر حکومت واقعی غیر سودی نظام ختم کرنا چاہتی ہے تو نیک نیتی کے ساتھ اس پورے نظام کو بدلنے کا تہیہ کرے جو خالص سود پر مبنی ہے تاکہ مسلمان پوری یکسوئی کے ساتھ غیر سودی بینکاری کو کامیاب بنانے میں حصہ لیں۔ اللہ تعالٰی ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ (آمین)

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد4۔صفحہ نمبر 246

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ