سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(222) نابالغ بچے کا حج

  • 20483
  • تاریخ اشاعت : 2017-04-11
  • مشاہدات : 301

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ہم دونوں میاں بیوی اللہ کے فضل و کرم سے اس سال حج پر جانے کا پروگرام رکھتے ہیں، اس کے لئے ہم نے درخواست بھی جمع کرا دی ہے، ہمارے ساتھ 5 سال کا بیٹا بھی ہے، ہم اسے اپنے ساتھ لے جانا چاہتے ہیں، کیا وہ بھی منسک حج میں شریک ہو سکے گا، وضاحت فرمائیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

نابالغ بچہ حج کر سکتا ہے، اسے دوسرے لوگوں کی طرح احرام پہنایا جائے اور وہ مناسک حج ادا کرے، لیکن بالغ ہونے کے بعد اسے دوبارہ حج کرنا ہو گا، بچپن کا حج، بلوغت کے بعد کے لئے کافی نہیں ہو گا، اگر آئندہ کسی وقت بلوغ کے بعد اس پر حج فرض ہوتا تو اسے نیا حج کرنا ہو گا، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں ایک عورت اپنے بچے کو اٹھا کر لائی اور عرض کرنے لگی: کیا اس کے لئے حج ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ہاں لیکن اس کا ثواب تجھے ملے گا۔" (صحیح مسلم،الحج:1336)

اس سلسلہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جو بچہ حج کرے پھر وہ بلوغت کو پہنچ جائے تو اس پر ضروری ہے کہ وہ دوسرا حج کرے۔" (سنن البیھقی ص325ج4)

ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نابالغ بچہ حج کر سکتا ہے اور اس کا حج صحیح ہے لیکن آئندہ بلوغ کے بعد اگر اس پر حج فرض ہوا تو بچپن کا حج اس کے لئے کافی نہیں ہو گا بلکہ اسے نیا حج کرنا ہو گا، نیز نابالغ بچہ اسی طریقہ اور انداز سے حج کرے گا جس طرح دوسرے لوگ کرتے ہیں۔ (واللہ اعلم)

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد4۔صفحہ نمبر 214

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ