سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
(207) اگر صاحب استطاعت آدمی حج کرنے سے پہلے فوت ہو جائے
  • 20468
  • تاریخ اشاعت : 2024-05-25
  • مشاہدات : 830

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک آدمی پر حج فرض ہو چکا تھا لیکن وہ ادائیگی حج سے پہلے ہی فوت ہو گیا تو کیا اس کے ترکہ سے اس قدر رقم الگ کر لینا چاہیے جو حج کے لئے کافی ہو یا وہ ترکہ ورثاء میں تقیم ہو گا۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جس آدمی پر حج فرض ہو چکا ہو لیکن وہ کسی وجہ سے پہلے ہی فوت ہو جائے تو اس کی جائیداد میں تقسیم سے پہلے اتنی رقم الگ کر لی جائے جس سے حج ہو سکتا ہو پھر کسی معقول شخص کو حج کے لئے بھیجا جائے جو میت کی طرف سے حج کرے بشرطیکہ جسے بھیجا جائے، اس نے پہلے اپنا حج کر لیا ہو، جیسا کہ حدیث میں ہے کہ ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ! میری والدہ نے حج کرنے کی نذر مانی تھی لیکن وہ ادائیگی سے پہلے ہی فوت ہو گئی ہے تو کیا میں اس کی طرف سے حج کروں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، تم اس کی طرف سے حج کرو۔‘‘ پھر فرمایا: ’’ اگر تیری والدہ پر کسی کا قرض ہوتا تو کیا اسے ادا کرتی ؟ اس نے عرض کیا کیوں نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اللہ کا قرض بھی ادا کرو کیونکہ اس قرض کی ادائیگی زیادہ ضروری ہے۔ ‘‘[1]

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جس طرح میت کے اصل مال سے اس کے ذمے قرض کی ادائیگی ضروری ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ کا قرض بھی اس کے مال سے ادا کرنا ضروری ہے ، خواہ میت نے اس کے متعلق وصیت کی ہو یا نہ کی ہو۔ حج کی رقم منہا کرنے کے بعد باقی رقم ورثاء میں قابل تقسیم ہو گی۔ لہٰذا ایسے حالات میں میت کے ذمے حج کی ادائیگی کا بندوبست ضرور کیا جائے۔(واللہ اعلم)


[1] صحیح البخاري ، الصید : ۱۸۵۲۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد4۔ صفحہ نمبر:204

محدث فتویٰ

تبصرے