سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(206) معذور سے فرضیت حج ساقط ہو جاتی ہے؟

  • 20467
  • تاریخ اشاعت : 2017-04-11
  • مشاہدات : 249

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک آدمی مالی اعتبار سے حج کرنے کی استطاعت رکھتا ہے لیکن جسمانی طور پر معذور یا اتنا کمزور ہے جو حج کی ادائیگی میں رکاوٹ کا باعث ہے، یا اسے ایسی بیماری لاحق ہے جس سے شفا کی امید نہیں، ایسے حالات میں فرضیت حج ساقط ہے یا اس کا کوئی متبادل حل ہے۔ کتاب و سنت کی روشنی میں راہنمائی فرمائیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

حج کی ادائیگی کے لئے اللہ تعالٰی نے استطاعت کا ذکر کیا ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ وہ سواری پر بیٹھ سکتا ہو، سفر کی مشکلات برداشت کر سکتا ہو نیز حج کے لئے آنے جانے، کھانے پینے اور رہائش کا خرچہ اپنے پاس رکھتا ہو، اس کے علاوہ وہ اپنے اہل و عیال کا خرچہ بھی ادا کرنے کی پوزیشن میں ہو، اس تناظر میں اگر کوئی مالی اعتبار سے صاحب استطاعت ہے لیکن جسمانی طور پر وہ حج کرنے کے قابل نہیں تو اسے چاہئے کہ کسی کو نائب بنا کر حج کے لئے روانہ کرے جو اس کی طرف سے حج کرے۔ جیسا کہ ایک حدیث میں ہے: خشعم قبیلے کی ایک خاتون نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ میرے والد پر حج فرض ہو چکا ہے لیکن وہ اس قدر بوڑھا ہے کہ سواری پر جم کر بیٹھ نہیں سکتا تو کیا میں اس کی طرف سے حج کر سکتی ہوں؟ آپ نے فرمایا: "ہاں! تو اس کی طرف سے حج کر سکتی ہے۔

یہ حجۃ الوداع کا واقعہ ہے۔" (صحیح البخاری،الحج:1513)

لیکن جس شخص کو نائب بنایا جائے اس کے لئے ضروری ہے کہ اس نے پہلے اپنا حج کیا ہو، جیسا کہ دوران حج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو سنا کہ وہ کہہ رہا تھا: "میں شبرمہ کی طرف سے حاضر ہوں۔"

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: کیا تو نے اپنا حج کیا ہے؟" اس نے عرض کیا: نہیں، آپ نے فرمایا: "تم پہلے اپنا حج کرو پھر شبرمہ کی طرف سے حج ادا کرو۔" (سنن ابی داؤد،المناسک:1811)

اس حدیث کی روشنی میں حج بدل کرنے والے کے لئے ضروری ہے کہ پہلے وہ اپنا حج کرے پھر کسی دوسرے کی طرف سے ادا کرے۔

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد4۔صفحہ نمبر 203

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ