سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(85) نماز تراویح

  • 20346
  • تاریخ اشاعت : 2024-05-01
  • مشاہدات : 3667

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

نماز تراویح کی شرعی طور پر کیا حیثیت ہے ، اگر کوئی انسان انہیں کسی وجہ سے چھوڑ دیتا ہے تو روزہ رکھنے یا نہ رکھنے کے متعلق کیا حکم ہے ، نیز نماز تراویح کی تعداد کے متعلق بھی وضاحت کریں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عمومی طور پر کتنی رکعات پڑھتے تھے ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

رمضان المبارک میں صوم رمضان اور قیام رمضان دو الگ الگ عبادتیں ہیں، ان میں سے صوم رمضان فرض اور قیام رمضان مستحب ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں عبادتوں کی فضیلت بیان کی ہے۔ چنانچہ صوم رمضان کے متعلق حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’جس نے ایمان کے پیش نظر ثواب کی نیت سے رمضان کا روزہ رکھا اس کے سابقہ گناہ معاف ہو جا تے ہیں۔ ‘‘[1]

اسی طرح قیام رمضان کے متعلق بھی یہی فضیلت بیان ہوئی ہے ۔ چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’جو انسان ایمان کے پیش نظر ثواب کی نیت سے رمضان المبارک میں رات کا قیام کر تا ہے اس کے بھی سابقہ گناہ معاف ہو جا تے ہیں۔‘‘[2]

اس حدیث پر امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے بایں الفاظ عنوان قائم کیا ہے :’’تطوع قیام رمضان من الایمان‘‘[3]

قیام رمضان کے نوافل کا اہتمام بھی ایمان کا حصہ ہے۔

 معنوی حیثیت سے ان دونوں عبادتوں کا بہت گہرا تعلق ہے لیکن اس طرح نہیں کہ ایک کی ادائیگی دوسری عبادت کو لازم ہو اور اس کے بغیر ادائیگی صحیح نہ ہو۔ اگر کوئی کسی وجہ سے نماز تراویح نہیں پڑھتا تو اس کے روزوں پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑتا، کیونکہ روزہ فرض ہے اور اس کا رکھنا ضروری ہے خواہ تراویح پڑھی ہوں یا کسی وجہ سے نہ پڑھی جا سکی ہوں۔ نماز تراویح در اصل نماز تہجد ہے جو لوگ ان میں فرق کر تے ہیں وہ صحیح نہیں ، اس کی کوئی دلیل صحیح احادیث سے نہیں ملتی ، یہ نماز بھی نفل ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان المبارک میں اس کی تر غیب دیتے تھے، آپ نے رمضان المبارک میں چند دن خود اسے با جماعت پڑھانے کا اہتمام کیا، پھر اس خطرہ سے کہ مبادا فرض ہو جائے گھر میں ادا کر تے رہے۔ [4]

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عام معمول وتر سمیت گیارہ رکعت پڑھنے کا تھا یعنی آٹھ تراویح اور تین وتر۔ چنانچہ حضرت ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے رمضان المبارک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز تراویح کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے فرمایا:’’رمضان اور غیر رمضان میں گیارہ رکعت سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے۔‘‘[5]

اس حدیث کے مطابق سائل نے رمضان المبارک کی نماز کے متعلق دریافت کیا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جامع جواب دیا کہ جو تعداد اور کیفیت سارے سال میں اس نما ز کی تھی وہی تعداد اور کیفیت رمضان میں رہی۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عام معمول گیارہ رکعت نماز تراویح ادا کرنا تھا۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی خلافت میں جنگوں کی مشغولیت کی بنا پر اس نفلی نماز کی طرف پوری توجہ نہ ہو سکی ، البتہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کی طرف توجہ دی اور اسے اجتماعی طور پر ادا کرنے کا حکم دیا جس کی تفصیل احادیث میں موجود ہے۔ [6]

آپ نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ اور حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ لو گوں کو گیارہ ، گیارہ رکعات پڑھائیں۔ [7]

اس روایت سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معمول کو بر قرار رکھتے ہوئے گیارہ رکعت پڑھانے کا حکم دیا، اگرچہ بعض مرفوع روایات میں بیس رکعات کا بھی ذکر آیا ہے لیکن ایسی روایات با تفاق ائمہ ضعیف اور نا قابل حجت ہیں۔ ہمارے رجحان کے مطابق اگر کوئی بطور نفل زیادہ پڑھنے کا اہتمام کرتا ہے تو اس کے لیے گنجائش ہے لیکن اسے سنت کا درجہ نہ دیا جائے کیونکہ سنت گیارہ رکعت ہی ہیں، حدیث نبوی میں بیس یا اس سے زیادہ کا کوئی ذکر نہیں۔ (واللہ اعلم)


[1] بخاری، الایمان: ۳۸۔

[2] بخاری ،الایمان:۳۷۔

[3] صحیح بخاری، الایمان، باب نمبر ۲۷۔

[4] صحیح بخاری، صلوٰة التراویح، ۲۰۱۲۔

[5] صحیح بخاری، صلوة التراویح: ۲۰۱۳۔

[6] صحیح بخاری، صلوة التراویح: ۲۰۱۰۔

[7] موطا امام مالك،ص۱۱۵،ج۱۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد4۔ صفحہ نمبر:113

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ