سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(72) اذان دے کر گھر جانا

  • 20333
  • تاریخ اشاعت : 2017-04-10
  • مشاہدات : 143

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
ہمارے ہاں ایک امام صاحب اذان دے کر سنتیں ادا کرنے کے لیے اپنے گھر چلے جاتے ہیں، کیا ان کا ایسا کرنا شرعی طور پر جائز ہے؟ نیز بتائیں کہ جو آدمی اذان کہے تکبیر بھی وہی کہے یا کوئی دوسرا بھی تکبیر کہہ سکتا ہے۔

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ہمارے ہاں ایک امام صاحب اذان دے کر سنتیں ادا کرنے کے لیے اپنے گھر چلے جاتے ہیں، کیا ان کا ایسا کرنا شرعی طور پر جائز ہے؟ نیز بتائیں کہ جو آدمی اذان کہے تکبیر بھی وہی کہے یا کوئی دوسرا بھی تکبیر کہہ سکتا ہے۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

مندرجہ بالا سوال کے دو جزو ہیں۔ (الف) اذان دے کر مسجد سے باہر جانا، (ب) کیا مؤذن ہی تکبیر کہے۔ جہاں تک اذان کہہ کر مسجد سے باہر جانے کا تعلق ہے تو اذان ہو جانے کے بعد معقول شرعی عذر کے بغیر مسجد سے باہر نکلنا انتہائی ناپسندیدہ حرکت ہے جیسا کہ جناب ابو الشعشاء بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ مؤذن نے عصر کی اذان کہی تو اس کے بعد ایک شخص مسجد سے باہر نکل گیا، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اسے دیکھ کر فرمایا: اس نے حضرت ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی ہے۔ (مسلم،المساجد:655)

ایک دوسری حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "میری اس مسجد سے اگر کوئی اذان سننے کے بعد نکل جاتا ہے اور اسے کوئی ضرورت بھی نہیں پھر وہ واپس نہیں آتا تو وہ پکا منافق ہے۔ (طبرانی،بحوالہ الاحادیث الصحیحہ،رقم:2518)

اس حدیث میں اگرچہ مسجد نبوی کا ذکر ہے لیکن معنی کے اعتبار سے یہ حکم عام ہے جیسا کہ پہلی حدیث میں ہے۔ کیونکہ نماز باجماعت فرض ہے اور مسجد سے باہر نکل جانے کی صورت میں یہ فرض ادا نہیں ہو سکتا، ہاں اگر کوئی ضرورت ہو تو ایسے حالات میں مسجد سے باہر جا سکتا ہے۔ چنانچہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے ایک عنوان بایں الفاظ قائم کیا ہے: کیا آدمی کسی عذر کی بنا پر مسجد سے باہر جا سکتا ہے؟ (بخاری،الاذان:باب نمبر24)

پھر انہوں نے حدیث پیش کی ہے کہ ایک دفعہ اقامت ہو چکی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی مصلیٰ امامت کے لیے کھڑے ہو چکے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنی اپنی جگہ پر کھڑے رہو، پھر آپ گھر تشریف لے گئے اور غسل کر کے واپس آئے اور آپ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا۔ (صحیح بخاری،الاذان:639)

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اذان کیا، تکبیر ہونے کے بعد بھی کسی معقول عذر کی وجہ سے انسان باہر نکل سکتا ہے۔ صورت مسئولہ میں بھی ایک معقول عذر ہے کہ امام اپنے گھر میں سنت ادا کرنے کا اہتمام کرتا ہے، لہذا اگر امام اذان دے کر اپنے گھر سنت ادا کرنے کے لیے آتا تو یہ جائز ہے۔ (واللہ اعلم)

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد4۔صفحہ نمبر 103

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ