سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(20) پانی سے استنجا کرنا

  • 20281
  • تاریخ اشاعت : 2017-04-10
  • مشاہدات : 289

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا احادیث میں پانی سے استنجاء کرنے کی ممانعت ہےکیونکہ یہ پینے کےلئے استعمال ہوتا ہے، کیا صحابہ کرام استنجاء کےلئے پانی کا استعمال نہیں کرتےتھے، اس سلسلہ کے متعلق قرآن و حدیث کے مطابق وضاحت کریں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

قضاء حاجت کے بعد ڈھیلوں سے استنجاء کرنا جائز ہے جیسا کہ احادیث میں صراحت آئی ہے لیکن پانی کے ساتھ استنجاء کرنا افضل ہے کیونکہ اس سے نجاست اور اس کے اثرات مکمل طور پر زائل ہو جاتے ہیں جبکہ ڈھیلوں کے استعمال سے نجاست کے کچھ نہ کچھ اثرات باقی رہ جاتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر اوقات طہارت کے لئے پانی استعمال کرتے تھے جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے خواتین سے کہا: ’’ اپنے شوہروں کو پانی کے ساتھ استنجاء کرنے کا حکم دو کیونکہ میں ان سے حیا کرتی ہوں، بلا شبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ ‘‘[1]

اس کے علاوہ ارشاد باری تعالیٰ ہے : ’’ اس (بستی) میں ایسے آدمی ہیں جو خوب پاک ہونے کو پسند کرتے ہیں۔ ‘‘[2]

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ یہ آیت اہل قباء کے متعلق نازل ہوئی کیونکہ وہ پانی کےساتھ استنجاء کرتے تھے۔ [3]

پانی کے ساتھ استنجا کرنے والوں کے متعلق اللہ تعالیٰ کا اظہار محبت کرنا اور اس آیت کریمہ کو نازل کرنا اس بات کا قطعی ثبوت ہے کہ پانی سے استنجاء کرنا افضل ہے، اگرچہ بعض روایات میں کچھ صحابہ کرام سے پانی کے ساتھ استنجاء کرنے کی کراہت منقول ہے، جیسا کہ مصنف ابن ابی شیبہ میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے لیکن صحیح احادیث کے مقابلہ میں ان کی کوئی حیثیت نہیں۔ ( واللہ اعلم)


[1] سنن الترمذي، الطھارۃ : ۱۹۔

[2] التوبة: ۱۰۸۔

[3] سنن أبي داؤد ، الطھارۃ: ۴۴۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد4۔ صفحہ نمبر:59

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ