سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(585) غصہ پینے کی فضیلت

  • 20234
  • تاریخ اشاعت : 2017-04-09
  • مشاہدات : 584

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:"میں اس شخص کو جنت کی ضمانت دیتا ہوں جو غصہ آنے کے بعد معاف کردے جبکہ وہ اسے نافذ کرنے کی طاقت بھی رکھتا ہو۔"کیا یہ حدیث کے الفاظ ہیں اگر ہیں تو حدیث کی کس کتاب میں ہے۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

مذکورہ الفاظ کے ساتھ کوئی حدیث میرے علم میں نہیں  ہے البتہ حضرت معاذ بن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے مروی ایک حدیث کے الفاظ درج ذیل ہیں ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:"کہ جو شخص غصہ پی جائے جبکہ وہ اس پر عمل در آمد کی قدرت رکھتا ہو تو اللہ اسے قیامت کے دن برسر مخلوق بلائے گا اور اسے اختیار دے گا کہ جنت کی حورعین میں سے جسے چاہے منتخب کر لے۔"[1]

واقعی اپنے سے کمزور پر غصہ آئے تو اسے قابو کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ لیکن اصل بہادری یہی ہے کہ ایسے موقع پر غصہ نکالنے کی بجائے معاف کر دیا جائے اللہ کے ہاں اس کی جزا ہے کہ حوریں تو ہر جنتی کو ملیں گی لیکن غصہ پر قابو پا کر ظلم سے اجتناب کرنے والے کو اپنی پسند کی حوریں منتخب کرنے کا حق دیا جائے گا۔ قرآن کریم میں اہل ایمان کی اہم صفت یہ بیان کی گئی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔

﴿وَالكـٰظِمينَ الغَيظَ وَالعافينَ عَنِ النّاسِ وَاللَّهُ يُحِبُّ المُحسِنينَ ﴿١٣٤﴾... سورةآل عمران

"اور غصہ کو پی جانے والے نیز لوگوں سے درگزر کرنے والے ،اللہ تعالیٰ ایسے نیکو کار لوگوں سے محبت کرتے ہیں۔"

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے کچھ لوگوں کے متعلق ان کی حسن صفات کی وجہ سے جنت کی ضمانت دی جیسا کہ آپ کا ارشاد گرامی ہے۔"میں اس شخص کے لیے ایک جانب خوبصورت محل کی ضمانت دیتا ہوں جو جھگڑا چھوڑدے اگرچہ حق پر ہو۔ اور جنت کے درمیان ایک محل کی،اس شخص کے لیے جو جھوٹ چھوڑدے اگرچہ مزاح کے طور پر ہو نیز جنت کی اعلیٰ منازل میں ایک محل اس شخص کے لیے ہے جو اپنے اخلاق کو عمدہ بنالے۔"[2]

معلوم ہوتا ہے کہ سائل کے لیے دونوں احادیث کے الفاظ خلط ملط ہو گئے ہیں، بہر حال ہمیں چاہیے کہ مذکورہ اچھی صفات کو اپنے اندر پیدا کریں تاکہ اللہ کے ہاں جنت کی نعمتوں کے حقدار ہوں۔(واللہ اعلم)


[1] ۔جامع ترمذی ،البروالصلہ ابودؤدالادب4777۔ابن ماجہ الزہد4176۔

[2] ۔ابو داؤد،الادب:4800۔

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد3۔صفحہ نمبر 484

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ