سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(578) مشرک کا ذبیحہ

  • 20227
  • تاریخ اشاعت : 2017-04-09
  • مشاہدات : 189

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
مشرک کے ذبیحہ کے متعلق کیا حکم ہے؟یعنی اس کا ذبح کیا ہوا جانور حلال ہے نیز جو شخص خود کو مسلمان کہلاتے ہیں اور شرک کا ارتکاب بھی کرے ان کے ذبیحہ کا کیا حکم ہے؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

مشرک کے ذبیحہ کے متعلق کیا حکم ہے؟یعنی اس کا ذبح کیا ہوا جانور حلال ہے نیز جو شخص خود کو مسلمان کہلاتے ہیں اور شرک کا ارتکاب بھی کرے ان کے ذبیحہ کا کیا حکم ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ذبح کرنا بھی ایک عبادت ہے جو مشرک سے قبول نہیں کی جاتی اس لیے جو بنیادی طور پر مشرک ہیں مثلاً ہندوسکھ اور بدھ مت وغیرہ ان کا ذبیحہ حرام ہے البتہ وہ اہل کتب جو سماوی شریعت کے قائل ہیں قرآنی صراحت کے مطابق ان کا ذبیحہ جائز قراردیا گیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿وَطَعامُ الَّذينَ أوتُوا الكِتـٰبَ حِلٌّ لَكُم...﴿٥﴾... سورةالمائدة

"اہل کتاب کا کھانا تمھارے لیے حلال ہے اور تمھارا کھانا ان کے لیے جائز ہے۔"

اس آیت کریمہ میں کھانے سے مراد ذبیحہ ہے لیکن اس کے لیے بھی شرط ہے کہ حلال جانور کو اللہ کا نام لے کر ذبح کیا جائے نزول قرآن کے وقت اہل کتاب کی دو اقسام میں شرک پایا جاتا تھا جیسا کہ قرآن میں ہے کہ یہودی حضرت عزیز  علیہ السلام  اور نصاریٰ حضرت عیسیٰ  علیہ السلام  کو اللہ کا بیٹا قرارد یتے تھے اس کے باوجود ان کے ذبیحہ کو مشروط طور پر ہمارے لیے حلال قراردیا گیا ہے اسی طرح دور حاضر کے مسلمان جو معیاری نہیں ہیں البتہ کلمہ گو، نماز و روزہ کے قائل و فاعل ہیں اگر بظاہر کوئی شرکیہ کام کریں تو ان کا ذبح کردہ جانور حرام نہیں ہوگا۔ ہاں اگر وہ شرک و بدعت کو اپنے لیے حلال سمجھتے ہوں۔ ضد اور ہٹ دھرم کے طور پر شرک کا ارتکاب کرتے ہیں تو ایسے لوگوں  کے ذبیحہ سے اجتناب کرنا چاہیے ۔ واضح رہے کہ اگر کسی انسان میں شرک کے اسباب موجود ہوں تو اسے مشرک قراردینے کے لیے ضروری ہے کہ وہاں کوئی موانع نہ ہوں ، اگراسباب کے ساتھ کوئی رکاوٹ یا مانع موجود ہو تو انہیں مشرک قراردیا جا سکتا ہے۔ اس کی وضاحت ہم نے اپنی تالیف"مسئلہ ایمان و کفر" میں کی ہے مکتبہ اسلامیہ سے اسے حاصل کرنے اس کا مطالبہ کیا جا سکتا ہے۔

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد3۔صفحہ نمبر 479

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ