سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(552) بوقت ضرورت پڑوسی سے کسی چیز کا تبادلہ کرنا

  • 20201
  • تاریخ اشاعت : 2024-04-23
  • مشاہدات : 1349

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ہمارے معاشرہ میں کچھ عورتیں اپنی پڑوسن سے بوقت ضرورت آٹا لے لیتی ہیں، پھر چند دنوں کے بعد واپس کر دیتی ہیں، ایک عالم دین نے مسئلہ کیا ہے کہ ایسا کرنا سود ہے براہ کرم اس کی وضاحت کریں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

خریدوفروخت کرتے وقت اگر ایک ہی جنس کی دو اشیاء کا تبادلہ کیاجائے تو دو چیزوں کا خیال رکھا جائے۔

1)  کمی بیشی کے ساتھ تبادلہ نہ ہو۔

2) دونوں طرف سے نقد ہو۔

 اگر کمی بیشی کے ساتھ تبادلہ کیا یا ایک طرف ادھار اور دوسری طرف سے نقد تو ایسی دونوں صورتیں سود ہیں، جیسا کہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’سونا، سونے کے بدلے، چاندی، چاندی کے بدلے، گندم، گندم کے بدلے، جو، جو کے بدلے، کھجور، کھجور کے بدلے اورنمک، نمک کے بدلے یہ تمام اشیاء برابر، برابر اور نقد بنقد فروخت کی جائیں پھر جو زیادہ لے یا زیادہ دے تو اس نے سودی کاروبار کیا۔ سود لینے والا اور سود دینے والا دونوں گناہ میں برابر ہیں۔ [1]

 واضح رہے کہ تجارت میں سود کی دو قسمیں ہیں:

1)  ربا الفضل: ایک جنس کی دو اشیاء کو کمی بیشی کے ساتھ فروخت کرنا۔

2) ربا النسیئہ: اس میں کمی بیشی نہ ہو لیکن ایک طرف سے نقد اور دوسرے طرف سے ادھار کا معاملہ ہو، سود کی یہ دونوں اقسام خریدوفروخت سے متعلق ہیں، البتہ معاشرتی طور پر ایک گھر والا اپنے پڑوسی سے وقتی طور پر کوئی چیز لیتا ہے۔ مثلاً گندم، آٹا، گھی اور چینی وغیرہ اور پھر چند دنوں بعد میسر آنے پر اسے واپس کر دیتا ہے تو یقینا خریدوفروخت نہیںبلکہ تعاون باہمی کا ایک طریقہ ہے، اسے کسی صورت میںناجائز نہیں کہا جا سکتا۔ (واﷲ اعلم)


[1] صحیح مسلم، المساقاۃ: ۱۵۸۴۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد:3، صفحہ نمبر:459

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ