سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(531) ہتھیائی رقم کی واپسی

  • 20180
  • تاریخ اشاعت : 2017-04-09
  • مشاہدات : 144

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
دو آدمیوں نے کسی شخص سے فراڈ کرکے مبلغ دو ہزار روپے ہتھیا لیے۔اس جرم میں وہ دونوں برابر کے شریک ہیں،اور رقم کو تقسیم کرلیتے ہیں،اب ان میں سے ایک توبہ کرلیتا ہے۔چونکہ مالی معاملات میں توبہ کی شرط یہ ہے کہ مظلوم کا مال واپس کیا جائے۔کیا اسے صرف اپنا حصہ مبلغ ایک ہزار روپیہ واپس کرنا ہوگا یا اپنی ذاتی گرہ سے دو ہزار واپس کرے گا؟وضاحت فرمائیں۔

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

دو آدمیوں نے کسی شخص سے فراڈ کرکے مبلغ دو ہزار روپے ہتھیا لیے۔اس جرم میں وہ دونوں برابر کے شریک ہیں،اور رقم کو تقسیم کرلیتے ہیں،اب ان میں سے ایک توبہ کرلیتا ہے۔چونکہ مالی معاملات میں توبہ کی شرط یہ ہے کہ مظلوم کا مال واپس کیا جائے۔کیا اسے صرف اپنا حصہ مبلغ ایک ہزار روپیہ واپس کرنا ہوگا یا اپنی ذاتی گرہ سے دو ہزار واپس کرے گا؟وضاحت فرمائیں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

واقعی حقوق العباد کامعاملہ انتہائی سنگین ہے،مالی معاملات کے متعلق توبہ میں دو چیزیں پیش نظر رکھناہوتی ہیں،ایک تو اللہ تعالیٰ سے معافی مانگی جائے کیونکہ اس نے اللہ کی نافرمانی کی ہے،دوسرے یہ کہ مظلوم کا مال واپس کیاجائے یا اسے راضی کرلیاجائے،اگرا یسا نہیں کیا گیا تو قیامت کے دن اسے نیکیاں دے کر یا مظلوم کی برائیاں لے کر حساب برابر کیا جائے گا۔صورت مسئولہ میں جس شخص کو اللہ کا خوف دامن گیر ہوا ہے اسے چاہیے کہ وہ اپنے  دوسرے ساتھی کو اس توبہ پر آمادہ کرے،اسے خوف آخرت دلائے پھر دونوں مل کر اس کے نقصان کی تلافی کریں اور اس سے معافی بھی مانگیں،اور آئندہ کے لیے ایسا فراڈ یادھوکہ نہ کرنے کامصمم ارادہ کریں،اگرایسا ممکن نہ ہوتو جسے اللہ کا خوف آیا ہے وہ اللہ سے معافی مانگے اور اپنے حصے کی رقم مبلغ ایک ہزار روپیہ واپس کرکے مظلوم سے معاملہ کی وضاحت کردے۔اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ اتنا دے کر اللہ کے ہاں اس کی رہائی ہوجائے گی اس پر دوسرے ہزار کا تاوان نہ ڈالاجائے جو اسکے ساتھی کے پاس ہے،کیونکہ برے کام کا بدلہ تو برے کام کے مطابق اور اس کے برابر ہوگا جیسا کہ قرآن کریم میں ہے:

﴿مَن جاءَ بِالحَسَنَةِ فَلَهُ عَشرُ أَمثالِها وَمَن جاءَ بِالسَّيِّئَةِ فَلا يُجزىٰ إِلّا مِثلَها وَهُم لا يُظلَمونَ ﴿١٦٠﴾... سورة الانعام

"اور جو برائی لے کر اللہ کے ہاں حاضر ہوگا اس اتنی ہی سزا دی جائےگی جتنی اس نے بُرائی کی تھی اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔"

امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ قیامت کے دن وہ معاملہ کرے گا جو اس کی شانِ رحیمی کے مطابق ہے۔

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد3۔صفحہ نمبر 445

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ

ABC