سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(559) دکان کی قیمت کم ہونے پر ایڈوانس کی واپسی

  • 2017
  • تاریخ اشاعت : 2012-09-08
  • مشاہدات : 469

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
ایک آدمی بائیس لاکھ کی دوکان خریدتا ہے نصف جس کے ۱۱ لاکھ ہوتے ہیں پانچ لاکھ بیعانہ دے دیتا ہے اور کچھ مدت کے بعد باقی دے دینے کا وعدہ کرتا ہے پوری کوشش کے باوجود باقی پیسے نہ دے سکا اس کے بعد دوکان والا اس کے پانچ لاکھ نہیں دے رہا اور کہتا ہے کہ اب دکان کی قیمت کم ہو گئی اس لیے میں آپ کے پانچ لاکھ دینے کا پابند نہ ہوں تمہارے پیسے ختم ہو گئے کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک آدمی بائیس لاکھ کی دوکان خریدتا ہے نصف جس کے ۱۱ لاکھ ہوتے ہیں پانچ لاکھ بیعانہ دے دیتا ہے اور کچھ مدت کے بعد باقی دے دینے کا وعدہ کرتا ہے پوری کوشش کے باوجود باقی پیسے نہ دے سکا اس کے بعد دوکان والا اس کے پانچ لاکھ نہیں دے رہا اور کہتا ہے کہ اب دکان کی قیمت کم ہو گئی اس لیے میں آپ کے پانچ لاکھ دینے کا پابند نہ ہوں تمہارے پیسے ختم ہو گئے کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

مندرجہ بالا سوال کے صحیح ہونے کی صورت میں جواب حسب ذیل ہے بتوفیق اللہ سبحانہ وتعالیٰ وعونہ  بیعانہ کی رقم مبلغ پانچ لاکھ مشتری کو واپس کرے شرعاً اس کو ضبط کرنے کا کوئی جواز نہیں باقی دوکان کی قیمت کا اب کم ہو جانا بیعانہ کی رقم کو ضبط کرنے کی شریعت میں کوئی وجہ جواز نہیں ۔

وباللہ التوفیق

احکام و مسائل

خرید و فروخت کے مسائل ج1ص 390

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ