سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(487) قربانی کتنے دن تک جائز ہے

  • 20136
  • تاریخ اشاعت : 2017-04-08
  • مشاہدات : 276

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

قربانی کتنے دنوں تک کی جاسکتی ہے،کیا تیرہ ذوالحجہ کو قربانی کرنا جائز ہے؟قرآن وحدیث کے مطابق جواب دیا جائے۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

قربانی ،عید کے بعد تین دن تک کی جاسکتی ہے عید دسویں ذی الحجہ کو ہوتی ہے ۔اس کے بعد تین دنوں ایام تشریق کو ذبح کے دن قرار دیا گیا ہے ۔حضرت جبیر بن معطم رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے روایت ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:"تمام ایام تشریق ذبح کے دن ہیں۔"[1]

اگرچہ اس روایت کے متعلق کہاجاتا ہے کہ منقطع ہے لیکن امام ابن حبان اور امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ  نے اسے موصول بیان کیا ہے اور علامہ البانی رحمۃ اللہ علیہ  نے اس روایت کو صحیح قرار دیاہے۔[2]

بعض فقہاء نے عید کے بعد صرف دو دن تک قربانی کی اجازت دی ہے،ان کی دلیل درج ذیل امر ہے:

قربانی ،یوم الاضحیٰ کے بعد دو دن تک ہے۔[3]

لیکن یہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کا اپنا قول ہے ،اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی مرفوع حدیث کے مقابلہ میں پیش نہیں کیا جاسکتا،لہذایہ قابل حجت نہیں ہے،علامہ شوکانی  رحمۃ اللہ علیہ  نے اس کے متعلق پانچ مذاہب ذکر کیے ہیں پھر اپنا فیصلہ بایں الفاظ لکھا ہے:تمام ایام تشریق ذبح کے دن ہیں اور وہ یوم النحر کے بعد تین دن ہیں۔

واضح رہے کہ پہلے دن قربانی کرنا زیادہ فضیلت کا باعث ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  اسی پر عمل پیرا رہے ہیں،لہذا بلاوجہ قربانی ذبح کرنے میں دیر نہ کی جائے اگرچہ بعض حضرات کا خیال ہے کہ غرباء ومساکین کو فائدہ پہنچانے کےلیے تاخیر کرنا افضل ہے لیکن یہ محض ایک خیال ہے،جس کی کوئی منقول دلیل نہیں ہے،نیز اگرکسی نے تیرہ ذوالحجہ کو قربانی کرنی ہوتو غروب آفتاب سے پہلے پہلے قربانی ذبح کردے کیونکہ غروب آفتاب کے بعد اگلادن شروع ہوجاتاہے۔


[1] ۔مسند امام احمد،ص:82،ج4۔

[2] ۔صحیح الجامع الصغیر:4537۔

[3] ۔بیہقی ،ص:297،ج9۔

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد3۔صفحہ نمبر 407

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ