سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(473) نومولود کو گھٹی دینا

  • 20122
  • تاریخ اشاعت : 2017-04-08
  • مشاہدات : 348

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ہمارے ہاں نومولود کو گھٹی دی جاتی ہے ،اس کا کیامقصد ہوتا ہے اور کیا طریق کار ہے،کیایہ ضروری ہے کہ کسی نیک سیرت انسان سے گھٹی دلوائی جائے؟کتاب وسنت کی روشنی میں وضاحت کریں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

گھٹی کی تعریف یہ ہے کہ کوئی نیک سیرت آدمی کھجور یا اس جیسی کوئی میٹھی چیزچبائے،جب ہو باریک ہوجائےتو بچے کا منہ کھول کر اس کے حلق سے چپکاری جائے تاکہ وہ اس کے پیٹ میں پہنچ جائے۔یہ عمل مسنون اور مستحب ہے مدنی زندگی میں صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  اس کا بایں طور پر اہتمام کرتے تھے کہ ان کے ہاں جب بھی بچہ پیدا ہوتا تو اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدمت میں لاتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم  سے گھٹی دلواتے ،تاکہ آئندہ اس نومولود میں اس نیک  سیرت انسان کی جھلک نظر آسکے ،جیسا کہ درج ذیل احادیث سے معلوم ہوتا ہے:

1۔حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ  بیان کرتے ہیں کہ میرے ہاں لڑکا پیدا ہوا تو میں اسے لےکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدمت میں حاضر ہوا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے اس کانام ابراہیم رکھا اور کھجور کو اپنے منہ میں چباکر نرم کیا پھر اسے نومولود کے منہ  رکھا اور اس کے لیے خیر وبرکت کی دعا کی۔[1]

2۔جب عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی ولادت ہوئی تو حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے انہیں لاکررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی گود میں رکھ دیا،رسول  اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے کھجور منگوائی پھر اسے چبایا اوراسے نومولود کے منہ میں رکھ دیا۔چنانچہ پہلی چیز جو بچے کے پیٹ  میں گئی وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کا لعاب مبارک تھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے اس کے لیے خیروبرکت کی دعا فرمائی۔[2]

3۔حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے ہاں بچہ   پیدا ہوا تو حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا   نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدمت میں بھیجا اور ساتھ کھجوریں بھی تھیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے کھجور کو منہ میں رکھ کرچبایا  پھر انہیں اپنے منہ سے نکال کر بچے کے منہ میں رکھ دیا اور اس کا نام عبداللہ رکھا۔

امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ  نےان احادیث سے گھٹی کے عمل کو ثابت کیا ہے ،وہ یہ ہے کہ کھجور یا کوئی بھی میٹھی چیزکو چبا کر نرم کرکے نومولود کے منہ میں ڈالنا،اس کا مقصد ایمان کی نیک فال لینا ہے کیونکہ کھجور کے درخت کو مومن سے تشبیہ دی گئی ہے  پھر میٹھی چیز کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  پسند بھی کرتے تھے،لہذا اسی عمل سے حلاوت ایمان کے لیے نیک فال لینا ہے،خصوصاً گھٹی دینےوالا نیک سیرت اور اچھی شہرت کا حامل ہو۔بازار سے"ہمدرد گھٹی"بھی دستیاب ہے،لوگ اس سے گھٹی کا کام نکال لیتے ہیں لیکن یہ تو پیٹ کی صفائی کے لیے ہوتی ہے،اس سے مسنون گھٹی کا کام نہیں لیا جاسکتا،ہاں اگر کوئی نیک آدمی اسے اپنے منہ میں ڈال کر پھر نومولود کے منہ میں ڈالے توصحیح ہے،بہرحال گھٹی کےلیے دو چیزوں کا ہونا ضروری ہے۔

کھجور یا کوئی بھی میٹھی چیز شہد وغیرہ۔کسی بزرگ کا انتخاب ،وہ بزرگ اس میٹھی چیز کو پہلے اپنے منہ میں رکھے پھر اسے نومولود کے منہ میں ڈالے اور اس کے لیے خیروبرکت کی دعاکرے،امت کے اہل علم کا اس امر پر اتفاق ہے کہ بچے کی ولادت کے موقع پر کھجور کے ساتھ گھٹی دینا مستحب عمل ہے اگر کھجور نہ مل سکے تو کسی بھی میٹھی چیز سے یہ عمل کیا جاسکتا ہے لیکن یہ کام کسی نیک سیرت،بزرگ انسان سے کرایا جائے۔


[1] ۔صحیح بخاری،العقیقہ:5467۔

[2] ۔صحیح بخاری العقیقہ:549۔

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد3۔صفحہ نمبر 396

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ