سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(447) مشروط طلاق

  • 20095
  • تاریخ اشاعت : 2017-04-05
  • مشاہدات : 160

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ہمارے گھر میں بیوی خاوند کے درمیان جھگڑا رہتا ہے، ایک دفعہ خاوند نے غصے میں آکر کہہ دیا کہ اگر تم اس طرح کرتی رہی تو پھر ہمارا گزارا مشکل ہے، وہ ایک دو مرتبہ گھر چھوڑ کر کہیں باہر چلا گیا، دوسری بار جب گھر سے گیا تو اس کی طرف سے ہمیں ایک خط موصول ہوا جس میں گھر واپس آنے کی کچھ شرائط درج تھیں، اس میں یہ بھی لکھا تھا کہ اگر تم نے ان شرائط پر عمل نہ کیا تو میں تمہیں طلاق دے دوں گا۔ ایسے حالات میں اس کا گھر چھوڑ دینا اور یہ کہنا کہ اگر تم نے ان شرائط پر عمل نہ کیا تو میں تمہیں طلاق دے دوں گا یا یہ کہنا کہ اگر تم اس طرح کرتی رہی تو پھر ہمارا گزارا مشکل ہے، اس طرح کی گفتگو اور طرز عمل سے طلاق ہو جاتی ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

طلاق کی صرف نیت کرنے سے طلاق واقع نہیں ہوتی، جب تک عملی طور پر طلاق نہ دی جائے۔ طلاق کے لیے دو چیزوں میں سے ایک کا ہونا ضروری ہے، زبان سے صراحت کے ساتھ اس لفظ کو استعمال کرے یا اسے تحریر کرے، اسی طرح خاوند کا ناراض ہو کر گھر سے چلے جانا اس سے بھی طلاق واقع نہیں ہوتی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے ناراض ہو کر گھر چھوڑ گئے تھے، اس سے قطعاً طلاق واقع نہیں ہوئی، خاوند نے اپنے خط میں لکھا کہ اگر ان شرائط پر عمل نہ کیا گیا تو وہ طلا ق دے دے گا۔ اس انداز سے بھی طلاق واقع نہیں ہوتی کیونکہ یہ تو ایک دھمکی اور ڈراوا ہے۔ اگر شرائط کو پورا نہ کیا گیا ہو تب بھی طلاق واقع نہیں ہو گی جب تک خاوند اپنی دھمکی کے مطابق عمل نہ کرے۔ ہاں اگر اس نے عملی طور پر طلاق کا لفظ کہہ دیا یا تحریر کر دیا ہے تو اس صورت میں طلاق ہو جائے گی، اس کے علاوہ خاوند کا اپنی بیوی کو یہ کہنا کہ اگر تم اسی طرح کرتی رہی تو پھر ہمارا گزارا مشکل ہے، اس جملہ کو بھی طلاق شمار نہیں کیا جائے گا لیکن اگر ان الفاظ کو بولتے وقت طلاق کی نیت کی ہو تو پھر طلاق ہو جاتی ہے۔ اگر اس نے طلاق کی نیت کی یا ان الفاظ کی ادائیگی کے وقت اسے نیت کا علم ہی نہیں تو بھی طلاق شمار نہیں ہو گی۔ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ خاوند غصہ میں آکر بیوی کو ایسے الفاظ کہہ دیتا ہے جو طلاق کی طرف اشارہ تو کرتے ہیں لیکن ان میں طلاق کی صراحت نہیں ہوتی، ایسے حالات میں طلاق نہیں ہوتی لیکن ہم ایسے جذباتی خاوند کو نصیحت کرتے ہیں کہ وہ غصہ کی حالت میں اپنی بریک پر پاؤں رکھنے کی عادت ڈالے، بات بات پر لڑائی جھگڑا، دھمکی آمیز باتیں یا خطوط لکھنا کوئی اچھا اقدام نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بیوی کے ساتھ اچھا برتاؤ اور حسن سلوک کرنے کی تلقین کی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿وَ عَاشِرُوْهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١ۚ ﴾[1]

’’تم ان کے ساتھ بھلے طریقے سے بود و باش رکھو۔‘‘

 احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیوی کے ساتھ حسنِ معاشرت کی بہت تاکید کی ہے، اس لیے خاوند کو چاہیے کہ وہ بردباری، صبر اور حوصلے سے کام لے، جلد بازی کا مظاہرہ نہ کرے۔ امید ہے کہ اللہ تعالیٰ حالات درست ہونے کی کوئی سبیل ضرور پیدا فرما دیں گے۔ (واللہ اعلم)


[1] ۴/النساء:۱۹۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد:3، صفحہ نمبر:377

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ