سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(437) نکاح میں گواہ لانا

  • 20086
  • تاریخ اشاعت : 2017-04-05
  • مشاہدات : 923

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اسلام میں نکاح کے وقت گواہوں کی کیا حیثیت ہے۔ کیا گواہوں کے بغیر نکاح صحیح ہے؟ اگر ہو سکتا تو عورت کے انکار اور سر پرست کے دھوکہ سے غلط بیانی کا سدباب کیا ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

نکاح کے وقت جس طرح سر پرست کی اجازت اور عورت کی رضا مندی ضروری ہے، اسی طرح اظہار رضا مندی کے وقت کم از کم دو گواہوں کا ہونا بھی ضروری ہے تاکہ آیندہ اگر کوئی تنازعہ کھڑا ہو تو دونوں گواہ اپنا کردار ادا کر سکیں، حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سر پرست اور دو گواہوں کی بغیر نکاح نہیں ہوتا۔ [1]

 حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت میں ہے ’’دو دیانت دار گواہ‘‘ کے الفاظ ہیں۔ [2]

 گواہوں میں عدالت بھی شرط ہے کہ وہ اچھے کردار کے حامل اور بہترین اخلاق سے متصف ہوں، اسی طرح سر پرست کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ لڑکی کے لیے خیر خواہی کے جذبات رکھنے والا ہو جیسا کہ حضرت ابن عباسرضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ دو عادل گواہ اور خیر خواہ سر پرست کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔ [3]

 علامہ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے اسے موقوف صحیح قرار دیا ہے۔ [4]

 حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک معاملہ لایا گیا جس میں نکاح کے وقت صرف ایک مرد اور ایک عورت گواہ تھے تو انہوں نے فرمایا یہ خفیہ نکاح ہے، میں اسے جائز نہیں قرار دے سکتا۔ اگر میں وہاں شریک ہوتا تو انہیں رجم کی سزا دیتا۔ [5]

 اگر کوئی غلط بیانی کرتا ہے تو عورت کو عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا چاہیے۔ بہرحال ہمارے نزدیک نکاح کے وقت کم از کم دو عادل اور امانت دار گواہوں کا ہونا ضروری ہے، اس کے بغیر نکاح صحیح نہیں ہے۔


[1]  دارقطنی،ص: ۲۲۵،ج۲۔  

[2]  بیہقی، ص: ۱۲۵،ج۷۔

[3]  مسند احمد،ص: ۲۵۰،ج۱۔  

[4]  ارواء الغلیل، ص: ۲۳۹،ج۶۔ 

[5]  مؤطا امام مالک،ص: ۵۳۵،ج۲۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد:3، صفحہ نمبر:369

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ