سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(427) تین ماہ کی حاملہ کو طلاق دینے کے بعدرجوع کرنا

  • 20076
  • تاریخ اشاعت : 2017-04-05
  • مشاہدات : 122

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
ہمارے ایک عزیز نے اپنی بیوی کی طلاق دی جبکہ وہ تین ماہ کی حاملہ تھی،طلاق کے بعد والدین نے اسقاط حمل کرادیا،اس کے بعد اسے دو دفعہ حیض بھی آچکا ہے ،اب دونوں میاں بیوی صلح کرنا چاہتے ہیں،اس کےلیے شرعاً کیا حکم ہے؟قرآن وحدیث کے مطابق جواب  دیں۔

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ہمارے ایک عزیز نے اپنی بیوی کی طلاق دی جبکہ وہ تین ماہ کی حاملہ تھی،طلاق کے بعد والدین نے اسقاط حمل کرادیا،اس کے بعد اسے دو دفعہ حیض بھی آچکا ہے ،اب دونوں میاں بیوی صلح کرنا چاہتے ہیں،اس کےلیے شرعاً کیا حکم ہے؟قرآن وحدیث کے مطابق جواب  دیں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

مختلف حالات کے پیش نظر طلاق یافتہ بیوی کی عدت تین حیض یا وضع حمل یا نوے دن ہے۔صورت مسئولہ میں بیوی،طلاق کے وقت حمل سے تھی۔جس کی عدت بچہ جنم دیتے تک ہے لیکن اس کے والدین نے اس کا  حمل گراکر اپنے ذمے قتل ناحق کاجرم لیاہےجوہمارے نزدیک بہت بڑا گناہ ہے،انہیں اس سنگین جرم پر اللہ سے معافی مانگنی چاہیے،ہم لوگ اپنی اولاد سے خیر خواہی کے جوش میں اللہ کی حدود کو فراموش کردیتے ہیں،جیسا کہ مذکورہ واقعہ میں ہوا ہے۔ہمارے نزدیک میاں بیوی اب بھی رجوع کرسکتے ہیں۔لیکن اس رجوع کے لیے تجدید نکاح کرنا ہوگا،جس کے لیے بیوی کی رضا مندی ،سرپرست کی اجازت ،حق مہر کی ازسر نوتعین ،گواہوں کی موجودگی بنیادی شرائط ہیں۔ہم اسقاط  حمل کو وضع حمل تو شمار نہیں کرتے تاہم طلاق ملنے کے بعد اسقاط حمل کی مدت کو عدت میں ضرروشمار کیاجائے جو کم از کم ایک ماہ سے زیادہ عرصہ پر محیط ہے ،اسقاط کے بعد اسے دو مرتبہ حیض بھی آچکا ہے،اس طرح پہلی مدت اور دو حیض ملا کر وہ اپنی عدت ختم کرچکی ہے،عدت کے بعد نکاح خود بخود ختم ہوجاتا ہے،ایسے حالات میں تجدید نکاح سے  رجوع ممکن ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿وَإِذا طَلَّقتُمُ النِّساءَ فَبَلَغنَ أَجَلَهُنَّ فَلا تَعضُلوهُنَّ أَن يَنكِحنَ أَزو‌ٰجَهُنَّ إِذا تَر‌ٰضَوا بَينَهُم بِالمَعروفِ...﴿٢٣٢﴾... سورةالبقرة

"اور جب تم عورتوں کو طلاق دو اور ان کی عدت پوری ہوجائے تو تم ان کے شوہروں سے نکاح میں رکاوٹ نہ بنو بشرط یہ کہ وہ آپس میں جائز طور پر راضی ہوجائیں۔"

ہمارے رجحان کے مطابق میاں بیوی رجوع کرسکتے ہیں لیکن یہ رجوع تجدید نکاح کے بغیر نہیں ہوگا،آئندہ اس قسم کے حالات نہ پیدا ہونے دیے جائیں۔نیز والدین کو چاہیے کہ وہ  اپنے رویے پر نظرثانی کریں،اولاد سے محبت کرتے ہوئے اللہ کے غضب کو نہ دعوت دی جائے۔اللہ ہمیں صالح عمل کرنے کی توفیق دے۔(آمین)

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد3۔صفحہ نمبر 363

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ