سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(418) طلاق دینے کی شرائط

  • 20067
  • تاریخ اشاعت : 2017-04-05
  • مشاہدات : 171

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میری بیوی منہ پھٹ اور بدزبان ہے، ایک دفعہ میرا اپنی بیوی کے ساتھ جھگڑا ہوا تو میں نے اسے کہا اگر تو خاموش نہ ہوئی تو میں تجھے طلاق دے دوں گا لیکن وہ خاموش نہ ہوئی، میں نے شدید غصے کے عالم میں اسے طلاق دے دی، اب مجھے بتایا جائے کہ ایسی حالت میں طلاق ہو جاتی ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اس میں شک نہیں ہے کہ غصہ آگ کا ایک انگارہ ہے جسے شیطان، انسان کے دل میں ڈال دیتا ہے پھر انسان کی آنکھیں سرخ ہو جاتی ہیں، رگیں پھول جاتی ہیں، پھر انسان آپے سے باہر ہو کر اُول فول بکنا شروع کر دیتا ہے، اس قسم کے غصہ میں مبتلا ہونا شریعت کو انتہائی ناپسند ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو یہی وصیت فرمائی تھی، جب اس نے عرض کیا تھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے کوئی وصیت فرمائیں! آپ نے فرمایا: ’’غصہ نہ کر‘‘ اس نے کئی مرتبہ اپنی بات کو دہرایا تو آپ نے ہر دفعہ جواب میں یہی فرمایا: ’’غصہ نہ کیا کر۔‘‘ [1]

٭ طلاق غصہ کی ابتدائی حالت میں دی جائے جب طلاق دینے والے کے ہوش و حواس قائم ہوں اور اسے علم ہو کہ میں منہ سے کیا کہہ رہا ہوں، ایسی حالت میں طلاق ہو جاتی ہے کیونکہ اس نے ایسی حالت میں طلاق دی ہے کہ غصہ آنے کے باوجود اس کے حواس درست تھے اور اپنے اختیار و ارادہ سے یہ کام کیا ہے۔

٭ دوسری حالت یہ ہے کہ بیوی کو طلاق غصے کی ایسی حالت میں دی جائے کہ انسان اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھا ہو، ایسی حالت میں وہ مجنون اور دیوانے کی حالت میں خیال کیا جائے گا اور اس کی طلاق واقع نہیں ہو گی، جیسا کہ حدیث میں ہے: ’’حالت اغلاق میں طلاق نہیں ہوتی۔‘‘ [2]

 اغلاق سے مراد عقل پر پردہ ڈال دینے والا شدید غصہ ہے، جب انسان بحالت غصہ اس حد تک پہنچ جائے کہ اس کا شعور ختم ہو جائے اور اپنی یادداشت کھو بیٹھے، اسے کچھ معلوم نہ ہو کہ وہ اپنے منہ سے کیا کہہ رہا ہے تو ایسی حالت میں راجح قول کے مطابق طلاق نہیں ہوتی، یہ معلوم کرنا کہ طلاق دہندہ نے غصے کی حالت میں طلاق دی ہے، اس بات کا اندازہ وہ خود ہی لگا سکتا ہے، مطلق طور پر غصہ کی حالت میں طلاق نہ ہونے کا فتویٰ نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ طلاق ہمیشہ غصہ کی حالت میں دی جاتی ہے، کوئی انسان بھی راضی خوشی اپنی بیوی کو طلاق نہیں دیتا۔ (واللہ اعلم)


[1] صحیح بخاری، الادب: ۶۱۱۶۔    

[2]  ابوداود، الطلاق: ۲۱۹۳۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد:3، صفحہ نمبر:357

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ