سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(417) رجعی طلاق کا حکم

  • 20066
  • تاریخ اشاعت : 2017-04-05
  • مشاہدات : 167

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک شخص نے اپنی بیوی کو غصہ کی حالت میں طلاق دے دی اور ایک ہی مجلس میں تین دفعہ طلاق کے الفاظ دہرائے، اس کے چھ دن بعد تحریری طلاق بھی لکھ دی لیکن اسے بیوی تک نہیں پہنچایا، اب طلاق کے اڑھائی سال بعد دونوں صلح کرنا چاہتے ہیں، کیا ایسا کرنا ممکن ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

قرآن و حدیث کے مطابق ایک مجلس کی تین طلاق ایک رجعی شمار ہوتی ہے جیسا کہ احادیث میں اس کی صراحت ہے، اس طلاق کے چھ دن بعد خاوند نے تحریری طلاق بھی دے دی جو بیوی تک نہیں پہنچائی، اس طرح یہ دوسری طلاق ہے، واضح رہے کہ طلاق کے لیے بیوی کو اس کا علم ہونا ضروری نہیں ہے، اور نہ ہی اس کے مؤثر ہونے کے لیے شرط ہے، اڑھائی سال تک عورت کی عدت ختم ہو چکی ہے، عدت ختم ہوتے ہی نکاح ٹوٹ جاتا ہے، اب تجدید نکاح سے صلح ہو سکتی ہے بشرطیکہ عورت رضا مند ہو، اس کے سرپرست کی اجازت ہو، گواہ بھی موجود ہوں اور حق مہر بھی از سر نو مقرر کیا جائے، ان چار شرائط کی موجودگی میں نیا نکاح کر کے اپنا گھر آباد کیا جا سکتا ہے، لیکن آیندہ کے لیے طلاق وغیرہ کے اقدام سے اجتناب کرنا ہو گا۔ کیونکہ اب تجدید نکاح کے بعد طلاق دینے سے بیوی ہمیشہ کے لیے حرام ہو جائے گی پھر عام حالات میں رجوع بھی نہیں ہو سکے گا۔ (واللہ اعلم)

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد:3، صفحہ نمبر:356

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ