سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(410) محرمات کی وضاحت

  • 20059
  • تاریخ اشاعت : 2017-04-05
  • مشاہدات : 130

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
میرے سسرکی دوبیویاں ہیں جس بیوی کی لڑکی میرے عقد میں ہے وہ میری ساس ہے دوسری بیوی کے متعلق شرعی حکم کیا ہےوہ بھی محرمات میں شمار ہوگی؟کتاب وسنت کی روشنی میں وضاحت فرمائیں۔

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میرے سسرکی دوبیویاں ہیں جس بیوی کی لڑکی میرے عقد میں ہے وہ میری ساس ہے دوسری بیوی کے متعلق شرعی حکم کیا ہےوہ بھی محرمات میں شمار ہوگی؟کتاب وسنت کی روشنی میں وضاحت فرمائیں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

بیوی کی والدہ تو محرمات سے ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿حُرِّمَت عَلَيكُم أُمَّهـٰتُكُم وَبَناتُكُم وَأَخَو‌ٰتُكُم وَعَمّـٰتُكُم وَخـٰلـٰتُكُم وَبَناتُ الأَخِ وَبَناتُ الأُختِ وَأُمَّهـٰتُكُمُ الّـٰتى أَرضَعنَكُم وَأَخَو‌ٰتُكُم مِنَ الرَّضـٰعَةِ وَأُمَّهـٰتُ نِسائِكُم...﴿٢٣﴾... سورةالنساء

"اور تمھاری بیویوں کی مائیں بھی حرام ہیں۔"

سسر کی دوسری بیوی داماد کے لیے اجنبی ہے اور محرمات میں شامل نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے محرمات کے بیان کے بعد فرمایاہے۔

﴿ وَأُحِلَّ لَكُم ما وَراءَ ذ‌ٰلِكُم...﴿٢٤﴾... سورةالنساء

"اور ان کے علاوہ دیگر عورتیں تمھارے لیے حلال ہیں۔"

قرآن کریم کی اس قطعی نص سے صرف پھوپھی ،بھتیجی ،اور خالہ ،بھانجی کو بیک وقت جمع کرنے کا استثناء احادیث میں آیاہے۔اس کے علاوہ کسی عورت کی حرمت کتاب و سنت سے ثابت نہیں ہے، پھر داماد اور سسر کی دوسری بیوی کے درمیان قرابت اور رشتہ داری نہیں یعنی یہ دونوں ایک دوسرے کے لیے اجنبی کی حیثیت رکھتے ہیں ہمارے رجحان کے مطابق سسر کی دوسری بیوی کواپنے خاوند کے داماد سے پردہ کرنا چاہیے۔اس کے ساتھ خلوت اور سفر کرنا جائز نہیں ،جب کہ حقیقی ساس محرمات میں سےہےاور اس کےساتھ خلوت بھی کی جاسکتی ہے اور وہ اس سے پردہ  بھی نہیں کرے گی۔بلکہ اکثر علماءنے تو یہاں تک لکھا ہے کہ کسی کے سسر کی بیوی اور اس کی دوسری بیوی کی بیٹی کو نکاح میں جمع کیا جاسکتا ہے امام ابن قدامہ  رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں۔اس میں کوئی حرج نہیں کہ کسی شخص کی بیوی اور اس کی کسی اور بیوی سے بیٹی کو نکاح میں جمع کر لیا جائے۔[1]

بہر حال بیوی کے والد کی دوسری بیوی محرمات سے نہیں ہے جب سسر فوت ہو جائے یا وہ اسے طلاق دے دے تو اس سے نکاح جائز اور مباح ہے۔(واللہ اعلم)


[1] ۔المغنیٰ ،ص:98۔ج1۔

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد3۔صفحہ نمبر 352

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ