سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(403) عقد نکاح کے لیے مساجد کا انتخاب کرنا

  • 20052
  • تاریخ اشاعت : 2017-04-05
  • مشاہدات : 89

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
عقد نکاح کے لیے مساجد ہی کو خاص کرناکہاں تک درست ہے؟اس کے متعلق کوئی حدیث مروی ہے تو اس سے بھی آگاہ کریں۔

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

عقد نکاح کے لیے مساجد ہی کو خاص کرناکہاں تک درست ہے؟اس کے متعلق کوئی حدیث مروی ہے تو اس سے بھی آگاہ کریں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

عقد نکاح مساجد میں یا ان کے علاوہ دیگر مقامات میں دونوں طرح صحیح اور درست ہے ۔البتہ مساجد میں نکاح کے اہتمام سے بہت سی برائیوں سے محفوظ رہاجاسکتا ہے جبکہ دیگر مقامات پر یعنی شادی ہال وغیرہ میں بہت سی برائیوں کو علانیہ کیاجاتا ہے،مساجد میں نکاح کرنے سے سگریٹ نوشی اور فوٹوگرافی یاوڈیو وغیرہ سےانسان محفوظ رہتا ہے ،اس بنا پر بہتر ہے کہ عقد نکاح کے لیے مساجد میں اہتمام کیا جائے اس سلسلہ میں ایک حدیث مروی ہے:"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:"اس نکاح کااعلان کرو اور عقد نکاح کے لیے مساجد کاانتخاب کرو۔"[1]

اس حدیث کو علامہ البانی رحمۃ اللہ علیہ  نے ضعیف قرار دیا ہے ۔[2]تاہم کچھ علماء نے اسے حسن قرار دیا ہے ۔[3]اس حدیث کی وجہ سے علامہ شوکانی رحمۃ اللہ علیہ  نے مسجد میں نکاح کرنے کو مستحب قرار دیا ہے، ہمارے رجحان کے مطابق اگر شادی ہال میں اہتمام کے بجائے مساجد کاانتخاب کیا جائے تو انسان کئی ایک قباحتوں سے محفوظ رہتا ہے،اگرچہ شادی ہال میں نکاح کا اہتمام بھی جائز ہے۔(واللہ اعلم)


[1] ۔ترمذی النکاح:1089۔

[2] ۔ضعیف ترمذی حدیث نمبر۔185۔

[3] ۔السیل الجرار ،ص:236،ج2۔

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد3۔صفحہ نمبر 347

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ