سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(377) عورت کو طلاق کی دھمکی دینا

  • 20026
  • تاریخ اشاعت : 2017-04-04
  • مشاہدات : 527

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میرے گھر میں ٹی وی ہے اور میرا خاوند اس میں عریاں فلمیں دیکھتا ہے اور مجھے بھی ایسی ننگی فلمیں دیکھنے پر مجبور کرتا ہے، میں نے اسے کہہ دیا ہے کہ اس قسم کی فلمیں دیکھنا ترک کردے یا پھر مجھے چھوڑ دے اور اس نے بھی مجھے دھمکی دی ہے اگر میں اس کے ساتھ اس کار بد میں شریک نہیں ہوتی تو طلاق کی دھمکی دی ہے، ایسے حالات میں مجھے کیا کرنا چاہیے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اللہ تعالیٰ نے ایمان داروں کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنے آپ کو اور اپنے اہل خانہ کو جہنم کی آگ سے بچائیں جس کا ایندھن لوگ اور پتھر ہیں۔ [1]

 اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق خاوند کے لیے بیوی اور اس کی اولاد کو رعایا بنایا ہے اور قیامت کے روز اس سے اپنی رعایا کے بارے میں باز پرس ہو گی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے : ’’آدمی، اپنے اہل خانہ کا نگہبان ہے اور اس سے اس کی رعیت کے متعلق سوال کیا جائے گا۔‘‘ [2]

 حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے جسے بھی کسی رعایا کا ذمہ دار بنایا اور وہ انہیں نصیحت نہیں کرتا تو وہ جنت کی خوشبو تک حاصل نہیں کرے گا۔‘‘ [3]

 خاوند کا اپنے گھر میں گندی اور عریاں فلمیں دیکھنا بہت بڑا گناہ ہے اور اپنے گھر والوں کو دیکھنے پر مجبور کرنا اس گناہ سے بڑھ کر سنگین جرم ہے، بیوی کو چاہیے کہ وہ ایسے معاملات میں قطعی طو رپر خاوند کی بات نہ مانے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:’’اللہ تعالیٰ کی معصیت میں کسی کی بھی اطاعت نہیں، اطاعت تو صرف بھلے کاموں میں ہوتی ہے۔‘‘ [4]

 خاوند کا بیوی کو طلاق کی دھمکی دینا کوئی شرعی عذر نہیں ہے کہ وہ اس کی بات ماننے پر مجبور ہو بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے خاوند کو اچھے انداز میں نصیحت کرے اگر وہ اس کے کہنے پر برائی کو ترک کر دیتا ہے تو بیوی کو اس کا اجر و ثواب ہو گا اور اگر وہ اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہتا ہے تو بیوی کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے اور اپنی اولاد کے خدشہ سے اس کے ساتھ چمٹی رہے، اس سلسلہ میں اسے ہر اس اقدام سے گریز نہیں کرنا چاہیے جو اس کی نجات کا باعث ہو، اللہ تعالیٰ اسے ضرور نعم البدل عطا فرمائے گا، ایسے حالات میں خاوند کے کہنے پر گناہ کا ارتکاب کرنا جائز نہیں بلکہ وہ اللہ سے دعا کرتی رہے کہ وہ اس کے لیے نجات کا کوئی ذریعہ پیدا کرے، اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو، اور ہمیں دین حنیف کے مطابق زندگی بسر کرنے کی توفیق دے۔ (آمین)


[1] ۶۶/التحریم:۶۔      

[2] صحیح بخاری، الجمعہ: ۸۹۳۔

[3]  صحیح بخاری، الاحکام: ۷۱۵۰۔

[4] صحیح بخاری، اخبار الاحاد:۷۲۵۷۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد:3، صفحہ نمبر:329

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ