سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(544) گروی لین دین کے متعلق سوال

  • 2002
  • تاریخ اشاعت : 2012-09-06
  • مشاہدات : 700

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا گروی کا لین دین درست ہے جبکہ اس کی صورت یہ ہو : میں نے اپنے دوست سے اس کا مکان لیا ہے ایک سال کے لیے اور میں نے ۶۰۰۰۰ اسے دیا ہے ہمارا معاہدہ یہ ہے کہ اگر میں نے اس کے مکان کی مکمل رقم جو کہ ۲۰۰۰۰۰ ہے ایک سال کے اندر دے دئیے تو وہ مکان میرے نام کر دے گا اگر میں اسے رقم نہ لوٹا سکا تو وہ میرے ۶۰۰۰۰ روپے ایک سال بعد مجھے واپس دے دے گا کیا یہ لین دین جسے عام اصطلاح میں گروی کہتے ہیں درست ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

صحیح بخاری میں رسول اللہﷺ کا فرمان ہے :

«الظَّهْرُ يُرْکَبُ بِنَفَقَتِهِ إِذَا کَانَ مَرْهُوْنًا ، وَلَبَنُ الدَّرِ يُشْرَبُ بِنَفَقَتِهِ إِذَا کَانَ مَرْهُوْنًا ، وَعَلَی الَّذِیْ يَرْکَبُ وَيَشْرَبُ النَّفَقَةُ»(كتاب الرهن باب الرهن مركوب و محلوب ج1)

’’پیٹھ پر سوار ہوا جائے اس کے خرچہ کے بدلے جب وہ گروی ہو اور دودھ والی کا دودھ پیا جائے گا اس کے خرچہ کے بدلے جب وہ گروی ہو اور جو سواری کرتا ہے اور دودھ پیتا ہے اس پر خرچہ ہے‘‘ گروی کی یہ دو صورتیں تو نص میں آ چکی ہیں ان دوصورتوں کے علاوہ گروی کی کوئی بھی صورت ہو دیکھا جائے گا اگر وہ شریعت کے خلاف کسی چیز پر مشتمل ہو تو ناجائز ورنہ جائز ۔

٭ آپ کے سوال سے سمجھ آتی ہے کہ آپ نے اپنے ایک دوست کو ساٹھ ہزار روپیہ قرض دیا اور اس دوست کا مکان گروی لیا اور ساتھ ہی بیع بھی کر لی اگر ایک سال کے اندر مکان کی قیمت دو لاکھ ادا کر دوں تو مکان میرا ورنہ وہ ایک سال بعد ساٹھ ہزار واپس کرے گا تو یہ صورت ناجائز ہے اولاً اس لیے کہ گروی کی یہ صورت سود پر مشتمل ہے کیونکہ آپ نے اپنی قرض دی ہوئی رقم مبلغ ساٹھ ہزار پوری کی پوری اس دوست سے وصول کرنی ہے اور اس کے آپ کے پاس گروی مکان سے فائدہ بھی اٹھانا ہے ثانیاً اس لیے کہ آپ کا یہ معاملہ سلف اور بیع پر مشتمل ہے ادھر رسول اللہﷺکا فرمان ہے «لاَ یَحِلُّ سَلَفٌ وَبَیْعٌ»ترمذى,ابوداؤد,نسائى ’’نہیں ہے حلال قرض اور بیع‘‘ ثالثاً اس لیے کہ ساٹھ ہزار قرض دے کر مکان کی قیمت جتنی کم لگائی گئی وہ سود کے زمرہ میں آتی ہے۔

    ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

احکام و مسائل

خرید و فروخت کے مسائل ج1ص 383

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ