سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(543) زمین گہنے پر دینا

  • 2001
  • تاریخ اشاعت : 2024-03-03
  • مشاہدات : 1583

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اگر کسی آدمی کو کچھ روپوں کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ اپنی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے کسی شخص سے ایک یا دو ایکڑ زمین بطور رہن رکھ کر رقم وصول کر لیتا ہے اور جونہی رقم ہاتھ آئی اپنی زمین واپس لے لی اور رقم دے دی تو اس کے بدلے جو آدمی زمین بطور (رہن گروی) لے لیتا ہے وہ اس زمین میں پیسہ لگا کر محنت اور وقت لگا کر اس کی کاشت کرتا ہے اور اس سے جو کچھ نفع  خرچہ لگانے کے بعد لیتا ہے جائز ہے یا کہ ناجائز ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

رسول اللہﷺ کا فرمان ہے دودھ اور سواری کا جانور جب مرہون (گروی رکھا ہوا) ہو تو خرچہ کے عوض اس کا دودھ پیا جا سکتا ہے اور اس پر سواری کی جا سکتی ہے۔(بخاری شریف کتاب الرہن)  اس کے علاوہ زمین وغیرہ گروی رکھنے کی ہر وہ صورت ناجائز ہے جس میں سود یا اکل مال بالباطل کی کوئی اور صورت ہو۔

    ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

احکام و مسائل

خرید و فروخت کے مسائل ج1ص 382

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ