سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(300) زمیندار کا آڑھتی سے فصل سے پہلے رقم لینا

  • 19949
  • تاریخ اشاعت : 2017-03-29
  • مشاہدات : 235

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ہمارے ہاں آڑھتی حضرات کایہ طریقہ ہے کہ زمیندار حضرات ان سے رقم لے لیتے ہیں اور فصل کے موقع پر انہیں پیداوار دینے کا وعدہ کرتے ہیں،اس طرح آڑھتی حضرات ایک لاکھ روپے دے کر تقریباً ڈیڑھ لاکھ روپیہ کمالیتے ہیں۔کیاایساکرنا شرعاً جائز ہے؟کتاب وسنت کا حوالہ دیں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

کسی چیز کو آئندہ ادائیگی کے وعدے پر اس کی نقد قیمت وصول کرنا جائز ہے۔شرعی طور پر اسے بیع سلم یا بیع سلف کہاجاتا ہے اس طرح کی خریدوفروخت جائز ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے عہد مبارک میں اس  طرح کی خریدوفروخت ہوا کرتی تھی،خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نےاس کی اجازت دی ہے لیکن اس کی چند ایک شرائط ہیں۔جو چیز بطور قیمت ادا کی جارہی ہے اس کی مقدار معلوم ہواوراسے مجلس عقد میں ادا کردیاجائے،نیز جو چیز آئندہ لینی ہو اس کا ایسا وصف بیان کیاجائے جس سے اسکی مقدار اور نوع ممتاز ہوجائے تاکہ دھوکے اورتنازعہ کاامکان نہ رہے نیز  ادائیگی کی مدت معلوم ہونی چاہیے اس کے لیے تاریخ طے کرلی جائے صحیح بخاری میں ہے:"جو شخص کسی بھی چیز میں بیع سلم کرنا چاہےوہ مقررہ وزن اور مقررہ مدت ٹھہرا کرکرے۔"[1]

بہرحال اس قسم کی خریدوفروخت کے لیے ضروری ہے کہ جنس معین ہوماپ یا وزن بھی معلوم ہوبھاؤ بھی طے ہو اور ادائیگی کی تاریخ بھی معین ہو۔دراصل اس قسم کی خریدوفروخت اشیاء کے معدوم ہونے کی وجہ سے ناجائز تھی لیکن اقتصادی مصالح کے پیش نظرلوگوں کے لیے نرمی کرتے ہوئے اسے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے،معاملہ طے کرتے وقت اس چیز کا موجود ہونالازمی ہے۔چنانچہ حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  اس قسم کی خریدوفروخت کرتےتھے تو لوگوں نے ان سے دریافت کیا آیا اس وقت ان کے پاس کھیتی موجود ہوتی تھی؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم ان سے اس کے متعلق نہیں پوچھا کرتے تھے۔"[2]

صورت مسئولہ میں اگرآڑھتی حضرات زمیندار سے خریدوفروخت کا معاملہ کرتے ہیں  کہ انہیں پیشگی رقم دے کر آئندہ جنس لینے کا اہتمام کرتے ہوں اوراس کا بھاؤ تاریخ ادائیگی جنس اور نوع نیز بھاؤ کاتعین کرلیا جائے تو جائزہے اوراگر روپیہ دے کر آئندہ فصل کے موقع پر ان سے روپیہ لیناہے تو ایسا کرنا سود ہے جوبہت سنگین جرم ہے۔(واللہ اعلم)


[1] ۔صحیح مسلم السلم:224۔

[2] ۔صحیح بخاری السلم:2255۔

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد3۔صفحہ نمبر 266

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ