سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(535) کلی طور پر حرام سے بچنا چاہیے..!

  • 1993
  • تاریخ اشاعت : 2012-09-05
  • مشاہدات : 637

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

شاید آپ کو معلوم ہے کہ میرے والدبھائی وغیرہ آڑھت کا کام کرتے ہیں اور چاول کے موسم میں بینک سے سرمایہ لیتے ہیں جس کا وہ سود ادا کرتے ہیں۔ میں نے اپنی کوشش کے مطابق ان کو بہت سمجھایا لیکن جب وہ باز نہ آئے تو میں نے اپنا نان ونفقہ ان سے علیحدہ کر لیا حتیٰ کہ رہائش بھی علیحدہ اختیار کر لی۔ اور قطعی طور پر ان کے گھر کا کھانا پینا بند کر دیا۔ قربانی کے موقع پر اصرار کے باوجود میں اور میری بیوی نے شرکت نہیں کی جبکہ اس وقت سارا خاندان اکٹھا تھا۔

یہ سب کچھ حرام غذا سے بچنے کے لیے اور اللہ کی ناراضگی سے بچنے کے لیے کیا اب تقریباً دو سال سے زائد عرصہ ہو چکا ہے۔ میری بھتیجی کی شادی ہے ۔ بھائی نے وہ بیٹی بہن سے لے کر پالی ہے شادی میں شرکت کا مسئلہ ہے نیز رمضان المبارک میں وہ مسجد میں افطاری کا سامان بھی بھیجتے ہیں اور بعض اوقات جب ان کے گھر جانا پڑتا ہے تو وہ مہمان نوازی کے طور پر کوئی چیز پیش کرتے ہیں ۔ اور پھر کھانے کا اصرار کرتے ہیں۔

اب میں نے بعض اہل علم سے دریافت کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ ان کا کاروبار ناجائز اور حرام ہے لیکن آپ کھا سکتے ہیں ۔ اور تحفتاً ان سے اشیاء یا کھانا لے سکتے ہیں ۔ اور بعض بزرگوں نے کہا ہے جب حلال اور حرام روزی مکس ہو جائے تو دوسرے کے لیے استعمال کی اجازت ملتی ہے بعض دوست کہتے ہیں کہ قطع رحمی اس سے بھی بڑا گناہ ہے ۔ بعض اہل علم دوست حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا کے واقعہ سے استدلال کرتے ہیں۔ بعض یہود ونصاریٰ کے کھانے سے استدلال کرتے ہیں کہ اگرچہ ان کا کاروبار شریعت کے خلاف تھا اور یہودی سود کا کام کرتے تھے لیکن قرآن نے مطلق ان کے کھانے کو حلال قرار دیا ہے ۔(یاد رہے میں نے اس جائیداد کو چھوڑ دیا ہے جس میں سودی کاروبار کا پیسہ لگا ہوا تھا)

محترم شیخ ! میں اس مسئلہ میں کافی پریشان رہتا ہوں مسجد میں آئی ہوئی افطاری کو نہ کھانا یا واپس کر دینا ایک بہت بڑے فتنہ کو دعوت دینا ہے۔ اس طرح شادی میں عدم شرکت بھی پریشانی کو دعوت دے رہی ہے براہ مہربانی مذکورہ مسائل کو قرآن وسنت کی روشنی میں واضح فرمائیں اور بندہ ناچیز کے لیے راہ راست متعین فرمائیں جس سے آخرت کی پریشانیوں سے محفوظ رہ سکوں۔

میری بیوی مجھ سے بھی زیادہ اس مسئلے میں سخت ہے والدین کو بارہا مرتبہ کہا ہے کہ حرام مال سے بچ جائو اور میرے ساتھ ہو جائو لیکن کلی طور پر میرا ساتھ نہیں دیتے ان کے ساتھ بھی رہتے ہیں کبھی کبھار میرے پاس بھی آ جاتے ہیں ۔ امید ہے مذکورہ پریشانی کو حل فرما کر عنداللہ ماجور ہوں گے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جناب کا مکتوب گرامی موصول ہوا تو محترم پریشانی والی کوئی بات نہیں آپ اپنے بہن بھائیوں اور والدین وغیرہم کے ساتھ صلہ رحمی والی پالیسی اپنا لیں قطع رحمی نہ کریں کیونکہ شریعت میں صلہ رحمی کا حکم ہے اور قطع رحمی منع ہے ہاں جہاں صلہ رحمی کے صلہ میں اپنے ایمان ودین کا خطرہ ہو کہ اپنا دین وایمان جاتا رہے گا وہاں دین وایمان کو ترجیح دی جائے گی اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

﴿وَإِن جَٰهَدَاكَ عَلَىٰٓ أَن تُشۡرِكَ بِي مَا لَيۡسَ لَكَ بِهِۦ عِلۡمٞ فَلَا تُطِعۡهُمَاۖ وَصَاحِبۡهُمَا فِي ٱلدُّنۡيَا مَعۡرُوفٗاۖ﴾--لقمان15

’’اور اگر وہ دونوں تجھ سے اڑیں اس بات پر کہ شریک مان میرا اس چیز کو جو تجھ کو معلوم نہیں تو ان کا کہنا مت مان اور ساتھ دے ان کا دنیا میں دستور کے موافق‘‘

﴿يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَتَّخِذُوٓاْ ءَابَآءَكُمۡ وَإِخۡوَٰنَكُمۡ أَوۡلِيَآءَ إِنِ ٱسۡتَحَبُّواْ ٱلۡكُفۡرَ عَلَى ٱلۡإِيمَٰنِۚ﴾--توبة23

’’اے ایمان والو مت پکڑو اپنے باپوں کو اور بھائیوں کو دوست اگر وہ پسند کریں کفر کو ایمان سے‘‘

﴿قُلۡ إِنكَانَ ءَابَآؤُكُمۡ وَأَبۡنَآؤُكُمۡ وَإِخۡوَٰنُكُمۡ وَأَزۡوَٰجُكُمۡ وَعَشِيرَتُكُمۡ وَأَمۡوَٰلٌ ٱقۡتَرَفۡتُمُوهَا﴾--توبة24

’’تو کہہ دے اگر تمہارے باپ اور بیٹے اور بھائی اور عورتیں اور برادری اور مال جو تم نے کمائے ہیں …‘‘ جو صورت آپ نے اپنے مکتوب میں تحریر فرمائی ہے اس سے آپ کے بھائی مجرم تو ضرور ہیں مگر ان کے پاس جو مال ہے وہ حرام نہیں بنتا بشرطیکہ سود دینے کے علاوہ تجارت میں کہیں کسی حرام بیع کا ارتکاب نہ کرتے ہوں۔

مجھے بڑا تعجب ہوا کہ آپ کے بھائی پکے مسلمان ومومن اور اہلحدیث ہیں مگر وہ سود لینے دینے کے متعلق قرآن مجید کی آیات

﴿وَمَنۡ عَادَ فَأُوْلَٰٓئِكَ أَصۡحَٰبُ ٱلنَّارِۖ هُمۡ فِيهَا خَٰلِدُونَ﴾--بقرة275

’’اور جو کوئی پھر سود لیوے تو وہی لوگ ہیں دوزخ والے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے‘‘

﴿يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَذَرُواْ مَا بَقِيَ مِنَ ٱلرِّبَوٰٓاْ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ ٭ فَإِن لَّمۡ تَفۡعَلُواْ فَأۡذَنُواْ بِحَرۡبٖ مِّنَ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦۖ﴾--بقرة278

’’اے ایمان والو ڈرو اللہ سے اور چھوڑ دو جو کچھ باقی رہ گیا ہے سود اگر تم مومن ہو پھر اگر نہیں چھوڑتے تو تیار ہو جائو لڑنے کو اللہ سے اور اس کے رسولﷺ سے‘‘

اور رسول کریمﷺ کی صحیح وثابت احادیث

«لَعَنَ رَسُوْلُ اﷲِﷺ آکِلَ الرِّبَا وَمُوْکِلَهُ وَکَاتِبَه وَشَاهِدَيْهِ وَقَالَ هُمْ سَوَاءٌ»--رواه مسلم بحواله مشكوة كتاب البيوع باب الربوا الفصل الاول

’’رسول اللہﷺنے سود کھانے والے کھلانے والے اس کے لکھنے والے اور اس کے گواہوں پر لعنت فرمائی ہے اور فرمایا گناہ میں یہ سب برابر ہیں‘‘

«قَالَ رَسُوْلُ اﷲِﷺ دِرْهَمُ رِبًا يَأْکُلُهُ الرَّجُلُ وَهُوَ يَعْلَمُ أَشَدُّ مِنْ سِتَّةٍ وَّثَلاَثِيْنَ زِنْيَةً»(رواه احمد والدارقطنى-بحواله مشكوة كتاب البيوع باب الربوا الفصل الثالث)

’’رسول اللہﷺنے فرمایا سود کا ایک درہم جس کو کوئی آدمی کھاتا ہے جبکہ وہ جانتا ہے چھتیس مرتبہ زنا کرنے سے زیادہ سخت ہے‘‘

«قَالَ رَسُوْلُ اﷲِﷺاَلرِّبَا سَبْعُوْنَ جُزْءً  أَيْسَرُهَا أَنْ يَّنْکِحَ الرَّجُلُ أُمَّه»(رواه ابن ماجه والبيهقى بحواله مشكوة باب الربوا)

’’رسول اللہﷺنے فرمایا سود کے ستر جزء ہیں سب سے کم درجہ کے جزء کا گناہ اس قدر ہے جیسے آدمی اپنی ماں سے زنا کرے‘‘ سن اور سمجھ کر آج تک اس کاروبار پر ڈٹے ہوئے ہیں   وہ دیکھتے نہیں سالہا سال سے وہ یہ سود دینے والا کام کر رہے ہیں مگر اب تک وہ اس لعنت سے نجات نہیں پا رہے اگر وہ آئندہ آپ سے اور اپنے دیگر اصحاب ثروت اقارب سے بلا سود قرض یا مضاربت لے کر یہ کاروبار کریں تو ان شاء اللہ مجھے یقین ہے دو چار سال تک ان کو کسی سے قرض لینے کی ضرورت ہی نہیں رہے گی ۔ بلکہ وہ دوسروں کو قرض دیں گے ان شاء اللہ کیونکہ رسول اللہﷺ کا اسلامی اصولوں کے مطابق تجارت کے متعلق فرمان ہے :

«فَإِنْ بَيَّنَا وَصَدَقَا بُوْرِکَ لَهُمَا فِیْ بَيْعِهِمَا»(بخارى شريف كتاب البيوع باب ما يمحق الكذب والكتمان فى البيع)

’’اگر وہ سچ بولیں گے بیان کر دیں گے ان کی بیع میں برکت ڈالی جائے گی‘‘  اور سود کے متعلق آپﷺ فرماتے ہیں

«إِنَّ الرِّبٰوا وَإِنْ کَثُرَ فَإِنَّ عَاقِبَتَهُ تَصِيْرُ إِلٰی قُلٍّ»(رواه احمدوابن ماجه والبيهقى بحواله مشكوة باب الربوا)

’’سود اگرچہ کس قدر بڑھ جائے اس کا انجام کمی کی طرف رجوع کرتا ہے‘‘ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ آپ کے بھائیوں کو توفیق دے کہ وہ فوراً اس جرم سے توبہ کر لیں  ۔ کیونکہ عمداً یہ جرم انتہائی سنگین ہے خدشہ ہے کہیں آدمی اس جرم کی پاداش میں دین وایمان سے ہی خارج نہ ہو جائے جیسا کہ ﴿اِنْ کُنْتُمْ مُوْمِنِیْنَ﴾ اور﴿فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اﷲِ وَرَسُوْلِہِ﴾ سے واضح ہو رہا ہے ۔

آپ کے مکتوب میں دوسری بات جو میرے لیے باعث تعجب ہوئی وہ یہ ہے کہ آپ لکھتے ہیں ’’میری بھتیجی کی شادی ہے‘‘ اور ساتھ ہی لکھتے ہیں ’’بھائی نے وہ بیٹی بہن سے لے کر پالی ہے ‘‘ تو محترم یہ لڑکی نہ تو آپ کے بھائی کی بیٹی ہے اور نہ ہی آپ کی بھتیجی بلکہ وہ آپ کی اور آپ کے بھائیوں کی بھانجی ہے نہ آپ کا بھائی اس کا باپ ہے نہ وہ اپنے آپ کو اس کا باپ ، ابا اور ابو لکھ لکھوا سکتا ہے نہ کہلا سکتا ہے اورنہ ہی آپ اس لڑکی کے چچا ہیں نہ ہی چچا لکھ لکھوا سکتے ہیں نہ کہلا سکتے ہیں وہ لڑکی آپ کو اور آپ کے بھائیوں کو صرف ماموں جان کہے اور جو آپ کا بہنوئی اس کا باپ ہے صرف اسی کو باپ ، ابا اور ابو جی کہے اور دوسرے رشتے بھی اس پر قیاس کر لیں  مثلاً وہ آپ کے بھائی ۔ جو پالنے والا ہے۔ کی بیوی کو اماں ، امی اور ماں نہیں کہہ سکتی اور نہ وہ کہلا سکتی ہے اس کو صرف مامی جی کہے اور وہ بھی صرف یہی کہلائے۔ سورۃ احزاب میں متبنّی کے متعلق آیات پڑھ لیں آپ کو معلوم ہے کہ زید رضي الله عنه کو زید بن محمد کہا  جاتا تھا مگر جب آیات نازل ہوئیں تو انہیں زید بن حارثہ رضي الله عنه کہا جانے لگا آپ لوگ اس مسئلہ میں اور پچھلے سود والے مسئلہ میں اللہ تعالیٰ کے فرمان

﴿وَمَا كَانَ لِمُؤۡمِنٖ وَلَا مُؤۡمِنَةٍ إِذَا قَضَى ٱللَّهُ وَرَسُولُهُۥٓ أَمۡرًا أَن يَكُونَ لَهُمُ ٱلۡخِيَرَةُ مِنۡ أَمۡرِهِمۡۗ﴾ --الاحزاب36

’’اور کام نہیں کسی ایمان دار مرد کا اور نہ ایمان دار عورت کا جب کہ مقرر کر دے اللہ اور اس کا رسول کوئی کام کہ ان کو رہے اختیار اپنے کام کا‘‘ کو ملحوظ رکھتے ہوئے اپنی فوراً اصلاح فرما لیں زندگی کا کوئی پتہ نہیں کب ختم ہو جائے اللہ تعالیٰ ہم سب کو سعادت دارین عطا فرمائے آمین یا رب العالمین میری طرف سے اپنے والدین مکرمین ، اخوان کرام اور تمام احباب عظام کی خدمت میں ہدیہ سلام پیش فرما دیں۔

    ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

احکام و مسائل

خرید و فروخت کے مسائل ج1ص 374

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ