سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(274) اعتکاف گاہ میں کب داخل ہونا چاہیے

  • 19923
  • تاریخ اشاعت : 2017-03-29
  • مشاہدات : 371

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

معتکف کو اعتکاف گاہ میں کب داخل ہونا چاہیے اور کن صورتوں میں مسجد سے نکلنا جائز ہے؟ کتاب و سنت کی روشنی میں جواب دیں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اعتکاف کرنے والے کو چاہیے کہ وہ بیس رمضان المبارک کی شام کو مسجد میں پہنچ جائے اور رات بھر مسجد میں مصروف عبادت رہے اور اگلے روز صبح کی نماز پڑھ کر اپنی اعتکاف گاہ میں داخل ہو، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ کا اعتکاف کرتے تھے۔[1]آخری عشرہ کا آغاز بیس رمضان کی شام کو ہو جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اعتکاف کا آغاز بیس رمضان کی شام کی بعد ہونا چاہیے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف کا ارادہ کرتے تو نماز فجر ادا کر کے اپنی اعتکاف کی جگہ میں داخل ہو جاتے۔[2] اکثر ائمہ نے اسی مؤقف کو اختیار کیا ہے، پھر معتکف کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت و بندگی، نوافل، تلاوت قرآن اور ذکر الٰہی میں مشغول رہے کیونکہ اعتکاف بیٹھنے کا یہی مقصد ہے، اپنے ساتھیوںسے بات چیت بھی کر سکتا ہے،بالخصوص جب گفتگو کرنے میں کوئی فائدہ ہو، فضول باتوں سے اجتناب کرنا چاہیے۔ اعتکاف کرنے والے کے لیے مسجد سے نکلنے کی حسب ذیل تین اقسام بیان کی گئی ہیں:

1) کسی ایسے امر کے لیے باہر نکلنا جس کے بغیر چارۂ کار نہ ہو مثلاً کھانے پینے کے لیے نکلنا جبکہ گھر سے کوئی کھانا لانے والا نہ ہو، اس طرح بول و براز اور وضو و غسل کے لیے مسجد سے نکلنا، ایساکرنا جائز ہے لیکن کسی مسجد میں جمعہ پڑھانے کے لیے معتکف کا مسجد سے نکلنا محل نظر ہے، موبائل اعتکاف کی شرعاً گنجائش نہیں ہے۔

2) کسی ایسے نیک کام کے لیے مسجد سے نکلنا جو معتکف کے لیے واجب نہ ہو مثلاً بیمار کی تیمارداری یا نماز جنازہ کی ادائیگی کے لیے مسجد سے نکلنا، ایسا کرنا جائز نہیں ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے معتکف کے لیے سنت یہ ہے کہ وہ نہ مریض کی عیادت کرے او رنہ جنازے میں شرکت کے لیے جائے، نہ عورت کو چھوئے اور نہ ہی اس سے مباشرت کرے۔[3]

 ابن قدامہ نے لکھا ہے کہ اگر اعتکاف بیٹھتے وقت اس نے شرط لگائی تھی یا وہ بھول گیا تو اس صورت میں کوئی حرج نہیں۔[4]ہمارے رجحان کے مطابق ایسے کاموں کے لیے مسجد سے نکلنا کسی صورت میں درست نہیں ہے۔

3) کسی ایسے کام کے لیے مسجد سے نکلنا جو اعتکاف کے منافی ہو مثلاً بلاوجہ گھر جانے کے لیے، خرید و فروخت کرنے کے لیے، بیوی سے جماع کرنے کے لیے نکلنا جائز نہیں ہے خواہ اس نے اعتکاف بیٹھتے وقت ان امو رکی شرط ہی کیوں نہ عائد کی ہو، ان کاموں سے اعتکاف باطل ہو جاتا ہے۔ (واللہ اعلم)


[1] بخاری، فضائل قرآن: ۴۹۹۹۔   

[2]  ترمذی، الصوم: ۷۹۱۔

[3] ابوداود، الصوم: ۲۴۷۳۔ 

[4]  مغنی، ص: ۴۷۲،ج۴۔ 

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد:3، صفحہ نمبر:244

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ