سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(262) شب قدر کا تعین

  • 19911
  • تاریخ اشاعت : 2017-03-29
  • مشاہدات : 392

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

قرآن و حدیث کے مطابق شب قدر کے متعلق کیا معلومات ہیں اور کیا اس رات کی تعیین ممکن ہے؟ اگر اس رات کا احساس ہو تو کیا پڑھا جائے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

 شب قدر ایسی رات ہے جس میں عبادت کرنا ہزار مہینوں کی عبادت سے بڑھ کر ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿لَيْلَةُ الْقَدْرِ١ۙ۬ خَيْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَهْرٍ﴾ [1]

’’لیلۃ القدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔‘‘

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’جو شخص ایمان کے ساتھ طلبِ ثواب کی نیت سے شب قدر کا قیام کرے گا اس کے سابقہ گناہ معاف کر دئیے جائیں گے۔‘‘ [2] پہلے اس رات کی تعیین کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتا دیا گیا تھا لیکن پھر آپ کو بھُلا دی گئی، اس کا سبب بھی احادیث میں بیان ہوا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اس کے متعلق آگاہ کرنے کے لیے تشریف لا رہے تھے، اچانک آپ نے دیکھا کہ دو مسلمان آپس میں کسی بات پر جھگڑ رہے ہیں تو آپ ان کے پاس کھڑے ہو گئے، ان کی باتیں سننے کے دوران آپ کے ذہن سے اس رات کی تعیین کا علم محو کر دیا گیا۔ [3]

 حدیث میں مزید وضاحت ہے کہ اس کی تعیین کا محو ہو جانا تمہارے لیے بہتر ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اب اسے انتیسویں، ستائیسویں اور پچیسویں رات میں تلاش کرو۔‘‘ [4] ایک روایت میں ہے کہ ’’آخری عشرہ کی طاق راتوں میں اسے تلاش کیا جائے۔[5]رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں ایک دفعہ تئیسویں رات، شب قدر آئی تھی۔ حدیث میں ہے کہ آپ نے فرمایا: ’’مجھے لیلۃ القدر دکھائی گئی پھر مجھے بھلا دی گئی۔ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں اس صبح کو پانی اور مٹی میں سجدہ کر رہا ہوں۔ [6]

 حضرت عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ تئیسویں رات ہم پر بارش نازل ہوئی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز پڑھا کر فارغ ہوئے تو آپ کی پیشانی اور ناک پر پانی اور مٹی کے نشانات نمایاں تھے۔ [7]

 بہرحال احادیث کی صراحت کے مطابق شب قدر رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں آتی ہے تاہم بعض روایات میں ہے کہ ان طاق راتوں میں سے ستائیسویں رات میں شب قدر کا زیادہ امکان ہے۔ چنانچہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ قسم اٹھا کر کہا کرتے تھے کہ یہ رات رمضان میں آتی ہے اور آخری عشرہ کی ستائیسویں رات کو آتی ہے۔[8]

 اس طرح حضرت معاویہ بن ابی سفیانرضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’لیلۃ القدر ستائیسویں رات کو ہوتی ہے۔‘‘ [9]

 ہمارے رجحان کے مطابق آخری عشرہ کی تمام طاق راتوں میں شب قدر تلاش کی جائے، خاص طور پر ستائیسویں رات کو اس کے متعلق زیادہ اہتمام کرنا چاہیے، ان راتوں میں یہ دعا بکثرت پڑھی جائے۔ اَللَّھُمَّ اِنَّكَ عَفُوٌ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّی ’’اے اللہ! تو معاف کرنے والا ہے، معافی کو پسند کرتا ہے لہٰذا مجھے بھی معاف کر دے۔‘‘

 چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ اگر مجھے احساس ہو جائے کہ یہ لیلۃ القدر ہے تو اس میں کیا پڑھوں تو آپ نے انہیں مذکورہ دعا پڑھنے کی تلقین فرمائی۔ [10]


[1] ۹۷/القدر:۳۔

[2] صحیح بخاری، فضل لیلۃ القدر: ۲۰۱۴۔

[3] صحیح بخاری، فضل لیلۃ القدر: ۲۰۲۳۔

[4] صحیح بخاری، حدیث نمبر۲۰۲۳۔

[5]  صحیح بخاری، حدیث نمبر:۲۰۱۸۔

[6] صحیح بخاری، فضل لیلۃ القدر: ۲۰۱۶۔

[7] صحیح مسلم حدیث نمبر۱۰۶۸۔

[8] صحیح مسلم، الصیام، باب لیلۃ القدر۔

[9]  ابوداود، حدیث نمبر:۱۳۸۶۔

[10]  جامع ترمذی، حدیث نمبر۳۵۱۳۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد:3، صفحہ نمبر:236

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ