سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(533) پراپرٹی ڈیلر کا کاروبار

  • 1991
  • تاریخ اشاعت : 2012-09-05
  • مشاہدات : 1505

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

جائداد کی خریدوفروخت میں درمیان میں دلالی کرنے والا یعنی سودا کروانے والا آدمی مشتری اور بائع یا دونوں میں سے کسی سے بطور فیس کوئی رقم لے آیا یہ شرعاً جائز ہے یا کہ نہیں ؟آج کل یہ کام اکثر لوگ کرتے ہیں اور بہت سے لوگوں نے یہ مسئلہ دریافت کیا ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

صحیح بخاری ، صحیح مسلم اور دیگر کتب حدیث میں رسول اللہﷺ کا فرمان ہے: «لاَ يَبِعْ حَاضِرٌ لِّبَادٍ» حضری (شہری) بدوی کے لیے بیع نہ کرے۔ تو آپ کے اس فرمان سے ثابت ہوا کہ حضری آدمی بدوی کے مال کی بدوی کی خاطر بیع خرید وفروخت نہیں کر سکتا باقی تین صورتیں (۱۔ حضری حضری کے مال کی بیع کرے۔ ۲۔ بدوی بدوی کے مال کی بیع کرے۔ ۳۔ بدوی حضری کے مال کی بیع کرے) درست ہیں ان میں کوئی حرج نہیں معلوم ہو کہ قروی بھی حضری میں شامل ہے۔ رہا دلال کا مشتری سے بائع کی چیز کے زیادہ پیسے وصول کرنا اور بائع کو کم دینا اور اس سلسلہ میں دلال کا دونوں کو یا ایک کو دھوکا میں رکھنا تو یہ ہر گز درست نہیں رسول اللہﷺ کا فرمان ہے :

«مَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا»(مشكوة-كتاب القصاص-باب مالا يضمن من الجنابات-فصل اول)

’’جس نے دھوکا کیا وہ ہم میں سے نہیں‘‘

اسی طرح دلالی کی اجرت کے علاوہ بیع اور سودے میں کوئی اور خرابی ہو مثلاً سود یا بیع کا منہی عنہ ہونا تو بیع نہیں ہو گی درست ، نہ ہی دلالی اور نہ ہی دلالی کی اجرت۔اللہ تعالیٰ عطا فرمائے ہمیں بس حلال کمانے کی توفیق وقدرت ، دور فرمائے ہم سے اقتصاد ومعیشت کی عسرت اور لائے ملک میں فقط مؤمن نیکوں کی سلطنت ، تمام احباب واخوان کی میرے ہدیہ سلام سے کرنا خوب خوب خدمت۔

    ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

احکام و مسائل

خرید و فروخت کے مسائل ج1ص 373

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ