سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(259) دسویں ذوالحجہ کے ضروری امور

  • 19908
  • تاریخ اشاعت : 2024-04-18
  • مشاہدات : 702

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

حج کے موقع پر تلبیہ کب ختم کیا جائے گا نیز دسویں ذوالحجہ کو کون کون سے کام کرنا ہیں، اگر ان میں تقدیم یا تأخر ہو جائے تو کیا دم پڑتا ہے؟ وضاحت کریں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

دسویں تاریخ کو جب جمرہ عقبہ کو کنکریاں ماری جاتی ہیں تو اس عمل سے تلبیہ ختم ہو جاتا ہے، چنانچہ حضرت فضل بن عباس اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہم سے روایت ہے، ان دونوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنے تک تلبیہ کہتے رہے۔ [1] علما کرام نے اس امر میں اختلاف کیا ہے کہ پہلی کنکری مارنے پر ہی تلبیہ ختم ہو جائے گا یا جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنے سے فراغت کے بعد تلبیہ ختم ہو گا، ہمارے رجحان کے مطابق آخری کنکری سے فراغت کے بعد تلبیہ ختم ہو گا جیسا کہ ایک حدیث میں حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری کنکری پھینکتے ہی تلبیہ ختم کر دیا۔ [2]

 اس مقام پر امام ابن خزیمہ رحمۃ اللہ علیہ نے اس مسئلہ کے متعلق عمدہ بحث کی ہے جو قابل مطالعہ ہے۔ واضح رہے کہ دسویں ذوالحجہ کو حاجیوں نے چار کام کرنے ہیں، جن کی تفصیل یہ ہے:

1) طلوع آفتاب کے بعد جمرہ عقبہ کو سات کنکریاں مارنا۔ 2)قربانی کرنا۔  3) سرمنڈوانا۔  4)طواف افاضہ کرنا۔

 اگر ان اعمال میں تقدیم و تاخیر ہو جائے تو شرعاً کوئی مواخذہ نہیں ہے جیسا کہ درج ذیل احادیث سے معلوم ہوتا ہے:

1)  حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع میں ایک مقام پر کھڑے ہو گئے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ سے سوالات کرنا شروع کر دئیے، کسی نے کہا مجھے علم نہیں تھا کہ میں نے قربانی سے پہلے حجامت بنوالی، آپ نے اسے فرمایا: ’’قربانی کرو، کوئی حرج نہیں ہے۔‘‘

 ایک دوسرے آدمی نے کہا مجھے علم نہیں تھا میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے قربانی کر لی، آپ نے اسے فرمایا: ’’اب کنکریاں مار لو کوئی حرج نہیں ہے۔‘‘

 حضرت ابن عمررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جس عمل کی تقدیم و تاخیر کے متعلق سوال ہوا تو آپ نے فرمایا: ’’جاؤ، اب کر لو کوئی حرج نہیں ہے۔‘‘ [3]

2) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قربانی کرنے، سر منڈوانے، کنکریاں مارنے اور ان میں تقدیم و تاخیر کے متعلق سوال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کوئی حرج نہیں ہے۔‘‘ [4]

3)  حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قربانی کے دن ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے سر منڈوانے سے پہلے طواف افاضہ کر لیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اب سر منڈوا لو، کوئی حرج نہیں ہے۔‘‘[5]

 بہرحال دسویں ذوالحجہ کو اعمال بجا لانے کی مندرجہ بالا ترتیب ہے لیکن اگر کوئی بھول کر ان میں تقدیم و تاخیر کا مرتکب ہوتا ہے تو شرعاً کوئی حرج نہیں ہے۔ (واللہ اعلم)


[1] صحیح بخاری، الحج: ۱۶۸۶۔۱۶۸۷۔

[2]  صحیح ابن خزیمہ، ص: ۲۸۲،ج۴۔

[3] صحیح بخاری، الحج: ۱۷۳۶۔

[4] صحیح بخاری، الحج: ۱۷۳۴۔

[5] جامع ترمذی، الحج: ۸۸۵۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد:3، صفحہ نمبر:232

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ