سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(531) آسان اقساط پر کاروبار کرنا

  • 1989
  • تاریخ اشاعت : 2012-09-05
  • مشاہدات : 1134

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
میری عمر تقریباً ۱۶ سال ہے اور میں میٹرک کا طالب علم ہوں ہم چار بھائی ہیں والد صاحب واپڈا میں ملازمت کرتے ہیں بڑے دو بھائیوں نے آسان اقساط پر خرید وفروخت کا کاروبار شروع کیا ہوا ہے والد صاحب رات کو سرکاری ڈیوٹی پر جاتے ہیں اور دن کو دوکان پر ہوتے ہیں مجھے یہ قرآن وحدیث کی روشنی میں پوچھنا ہے کہ ان حالات میں مجھے کیا کرنا چاہیے کیونکہ اقساط والے کاروبار کی روزی حرام ہے ، اور اس بارے میں میرا رد عمل کیا ہونا چاہیے ؟ کیونکہ وہ یہ کاروبار کسی صورت میں بھی چھوڑنا نہیں چاہتے؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میری عمر تقریباً ۱۶ سال ہے اور میں میٹرک کا طالب علم ہوں ہم چار بھائی ہیں والد صاحب واپڈا میں ملازمت کرتے ہیں بڑے دو بھائیوں نے آسان اقساط پر خرید وفروخت کا کاروبار شروع کیا ہوا ہے والد صاحب رات کو سرکاری ڈیوٹی پر جاتے ہیں اور دن کو دوکان پر ہوتے ہیں مجھے یہ قرآن وحدیث کی روشنی میں پوچھنا ہے کہ ان حالات میں مجھے کیا کرنا چاہیے کیونکہ اقساط والے کاروبار کی روزی حرام ہے ، اور اس بارے میں میرا رد عمل کیا ہونا چاہیے ؟ کیونکہ وہ یہ کاروبار کسی صورت میں بھی چھوڑنا نہیں چاہتے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

چیز کی قیمت جو نقد ہے اتنی ہی ادھار یکمشت یا قسطوں میں وصول کی جائے تو پھر کاروبار شرعاً درست ہے بشرطیکہ اس میں کوئی اور خلاف شرع امر موجود نہ ہو اور اگر چیز کی قیمت جتنی نقد ہے ادھار یکمشت یا قسطوں میں اس سے زیادہ وصول کی جائے تو کاروبار سود کے زمرے میں آنے کی وجہ سے ناجائز اور حرام ہے آپ والد صاحب کو سمجھائیں ان شاء اللہ وہ سمجھ جائیں گے اور اول الذکر صورت اختیار کر لیں تو گناہ سے بھی بچ جائیں گے اور کاروبار بھی چلے گا اور مال بھی زیادہ حاصل ہو گا اور وہ بھی حلال طریقہ سے کیونکہ اس طرح خریدار بڑھ جائیں گے مال زیادہ فروخت ہو گا اور نفع بھی اسی مقدار سے زیادہ حاصل ہو گا۔

وباللہ التوفیق

احکام و مسائل

خرید و فروخت کے مسائل ج1ص 372

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ