سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(226) حج بدل کرنا

  • 19875
  • تاریخ اشاعت : 2017-03-29
  • مشاہدات : 222

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میرے والد گرامی کا چند روز قبل انتقال ہوا،زندگی میں ان پر حج فرض نہیں ہواتھا کیونکہ جب ان کے پاس زاد سفر (رقم) کا بندوبست ہوا تو وہ صحت کے حوالے سے سفر حج کے قابل نہ تھے،اب ان کی وفات کے بعد  حج بدل کا حکم ان کے ورثاء پر لاگو ہوگا یا نہیں اوراگر ہوگا تو ان کی طرف سے کون حج ادا کرسکتا ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

حج ارکان اسلام میں سے پانچواں رکن ہے اور یہ اس شخص پر فرض ہے جو اس کی استطاعت رکھتا ہو،استطاعت سے مرادیہ ہے۔

الف۔بیت اللہ شریف جانے اور واپس آنے کا خرچہ اس کے پاس موجود ہو۔

ب۔اس کی عدم موجودگی میں گھر کے اخراجات کے لیے فاضل رقم موجود ہو۔

ج۔سفر حج پر امن ہوا اور اس کے مال وجان کو کوئی خطرہ لاحق نہ ہو۔

د۔جسمانی صحت اس قابل ہوکہ اس سفرکی صعوبتوں کو برداشت کرسکتا ہو۔

اگر کسی کے پاس حج اور اہل خانہ کے اخراجات موجود ہیں اور راستہ بھی پر امن ہے مگرجسمانی صحت ساتھ نہیں دیتی تو وہ کسی تندرست شخص کو اپنی طرف سےحج کرواسکتا ہے جیساکہ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے پاس حجۃ الوداع کے موقع پر ایک عورت آئی اور اس نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  !اللہ تعالیٰ کافریضہ حج جو اس کے بندوں پر عائد ہے اس نے میرے بوڑھے باپ کو پالیا ہے مگر وہ سواری پر بیٹھنے کے قابل نہیں ہے تو کیا میں اسکی طرف سے حج کرسکتی ہوں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:ہاں،تو اس کی طرف سے حج کرسکتی ہے۔[1] اس  حدیث کامطلب یہ ہے کہ معذور آدمی اگر چاہے تو کسی کو اپنا نائب مقرر کرکے حج کرواسکتا ہے،اسے حج بدل کہتے ہیں لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ جسے حج بدل کے لیے بھیجا جائے وہ  پہلے خوداپنا فریضہ حج ادا کرچکاہو،جیسا کہ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ایک آدمی کو کہاتھا کہ پہلے اپنی طرف سے حج کرو پھر شبرمہ کی طرف سے حج کرنا۔[2]  صورت مسئولہ میں سائل کے والد کے پاس حج کے اخراجات تو موجود تھے لیکن وہ سفرحج کرنے کے قابل نہ تھے اور اسی حالت میں ان کا انتقال ہوگیا،اب اگر مرحوم کی اولاد اس کی طرف سے حج بدل کرانا چاہتی ہے تو شرعاً اس کی اجازت ہے لیکن اس کے لیے کسی ایسے نیک شخص کا انتخاب کیاجائے جو پہلے اپنا حج کرچکا ہے اور اس سلسلہ میں ایک بات ذہن نشین کرلینی چاہیے کہ اگر مرحوم نے حج کے لیے کچھ رقم مختص کی تھی اور وہ وفات کے وقت موجود تھی تو اسے اب حج کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اب رہ رقم اس کا"ترکہ"شمار ہوگی جسے ورثاء میں تقسیم کیا جائے گا اگر تمام ورثاء بطیب خاطر مند ہوں تو اس رقم کو حج کی مد میں استعمال کیا جاسکتا ہے یا پھر اولاد میں کوئی یا سب مل کر باپ کی طرف سے حج بدل کرانے کا بندوبست کریں مختصر یہ کہ ان کے ورثاء پر حج کاحکم لاگو نہیں ہے ہاں اگرچاہیں تو اس کی طرف سے حج بدل کرسکتے ہیں اور جس نے حج بدل کرنا ہے پہلے وہ اپنا حج کرچکاہو(واللہ اعلم)


[1] ۔صحیح بخاری الحج:1513۔

[2] ۔ابوداود المناسک:1811۔

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد3۔صفحہ نمبر 212

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ