سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
(220) بیٹیوں کے زیورات پر زکوٰۃ
  • 19869
  • تاریخ اشاعت : 2024-05-26
  • مشاہدات : 992

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک شخص کی دو بیٹیاں ہیں، اس نے دونوں کے لیے آٹھ تولے کا زیور بنا کر رکھا ہوا ہے یعنی ہر ایک کے لیے چارچار تولے، کیا ایسے زیور پر زکوٰۃ ادا کرنا ضروری ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اگر اس نے زیور بنا کر اپنے پاس رکھا ہے تو اس سے زکوٰۃ ادا کرنا ضروری ہے کیونکہ وہ ابھی تک اس کی ملکیت میں ہے اور وہ زیور نصاب کو پہنچ چکا ہے اور اگر اس نے اپنی بیٹیوں کو عاریتاً دیا ہے۔ تب بھی اس سے زکوٰۃ ادا کرنا ہو گی کیونکہ اس صورت میں بھی وہ اس زیور کا مالک ہے، ہاں اگر اس نے وہ زیور مستقل طور پر اپنی بیٹیوں کو دے دیا ہے اور انہیں اس کا مالک بنا دیا ہے تو اس صورت میں اس پر زکوٰۃ نہیں ہے کیونکہ اب وہ اس کی ملکیت سے نکل چکا ہے اور جن کی ملکیت میں آیا ہے وہ انفرادی طور پر نصاب سے کم ہے اور چارتولہ زیور میں زکوٰۃ فرض نہیں ہے، یادرہے کہ بطور حیلہ زکوٰۃ سے بچنے کے لیے وہ زیور اپنی بیٹیوں کو نہ دیا جائے جبکہ وہ اس کی ضرورت مند بھی نہیں ہیں، ایسا کرنا گناہ ہے اور شریعت میں اس کی گنجائش نہیں۔ (واﷲ اعلم)

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد:3، صفحہ نمبر:203

محدث فتویٰ

تبصرے