سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(212) صدقہ فطر کی مقدار اور اوقات

  • 19861
  • تاریخ اشاعت : 2017-03-29
  • مشاہدات : 211

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

صدقۂ فطر کیوں ادا کیا جاتا ہے، اس کی کتنی مقدار ہے، کیا اس کی قیمت دینا بھی جائز ہے؟ کتاب وسنت سے جواب دیں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

صدقہ فطر ادا کرنے میں شریعت نے یہ حکمت رکھی ہے کہ اس کی ادائیگی سے غریب لوگوں کے کھانے کا بندوبست ہو جاتا ہے اور دوسرا فائدہ یہ ہے کہ روزہ کے دوران جو لغویات یا بے ہودہ اقوال وافعال سرزد ہو جاتے ہیں، ان کا کفارہ بن جاتا ہے، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقۂ فطر فرض قرار دیا ہے، اس سے روزہ دار ان لغویات اور بے حیائی پر مبنی اقوال وافعال کے گناہ سے پاک ہو جاتا ہے جو اس سے دوران روزہ سرزد ہوتے ہیں اور مساکین کے لیے کھانے کا بندوبست بھی ہو جاتا ہے۔ [1]

 اس کی مقدار ایک صاع ہے جو اشیاء خوردنی سے ادا کی جائے، رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فطرانہ غلام پر بھی، آزاد پر بھی، مرد پر بھی عورت پر بھی، الغرض آپ نے مسلمانوں میں سے ہر چھوٹے بڑے پر اس کو فرض قرار دیا ہے۔[2]

 رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے اس کی قیمت ادا کرنا ثابت نہیں ہے۔ اگر کوئی آدمی روزانہ بازار سے غلہ خرید کر اپنی خوراک کا بندوبست کرتا ہے تو ایسا شخص اس کی قیمت ادا کر سکتا ہے۔ صاع کی مقدار موجودہ وزن کے لحاظ سے دو کلو سو گرام ہے۔ ویسے بہتر ہے کہ صدقۂ فطر پیمانہ سے ادا کیا جائے جو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح سند کے ساتھ مروی ہے صاع اور مد کے پیمانے سعودیہسے مل جاتے ہیں انہیں حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔ (واﷲ اعلم)


[1]  ابو داود، الصوم: ۱۶۰۹۔

[2]  صحیح بخاری، حدیث نمبر: ۱۵۰۳۔ 

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد:3، صفحہ نمبر:197

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ