سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(527) نقد اور ادھار کی قیمت میں فرق رکھنا

  • 1985
  • تاریخ اشاعت : 2012-09-05
  • مشاہدات : 904

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
گذارش ہے کہ تجارت میں کیا تاجر کو یہ اختیار ہے کہ اس کا ایک مال ہے کیا وہ  نقد اور ادھار کے ریٹ میں فرق رکھ سکتا ہے ۔ مثال کے طور پر ایک چیز وہ گاہک کو کہتا ہے کہ یہ دس روپے کی ہے  ، اور وہ کہتا ہے اگر نقد رقم دے کر لو گے تو دس روپے کی ہے اور اگر ادھار لو  گے تو بارہ روپے کی ہے؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

گذارش ہے کہ تجارت میں کیا تاجر کو یہ اختیار ہے کہ اس کا ایک مال ہے کیا وہ  نقد اور ادھار کے ریٹ میں فرق رکھ سکتا ہے ۔ مثال کے طور پر ایک چیز وہ گاہک کو کہتا ہے کہ یہ دس روپے کی ہے  ، اور وہ کہتا ہے اگر نقد رقم دے کر لو گے تو دس روپے کی ہے اور اگر ادھار لو  گے تو بارہ روپے کی ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

صورت مسئولہ میں چیز دس روپے میں فروخت کی جائے تو درست وجائز ہے اور اگر بارہ روپے میں فروخت کی جائے تو بوجہ سود ہونے کے نادرست ، ناجائز اور حرام ہے سنن ابی داود میں رسول اللہﷺکا فرمان ہے :

 «مَنْ بَاعَ بَيْعَتَيْنِ فِیْ بَيْعَةٍ فَلَهُ أَوْکَسُهُمَا أَوِ الرِّبَا»كتاب البيوع فى من باع بيعتين فى بيعة ج2

جو شخص ایک بیع میں دو سودے کر لے تو اس کے لیے کم تر قیمت والا سودا ہے یا ربا ہے

وباللہ التوفیق

احکام و مسائل

خرید و فروخت کے مسائل ج1ص 370

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ