سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(164) دم کرنے کا شرعی طریقہ

  • 19813
  • تاریخ اشاعت : 2017-03-29
  • مشاہدات : 204

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
دم کرنے کا شرعی طریقہ کیا ہے؟ قرآن و سنت کی روشنی میں اس کی وضاحت کریں۔

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

دم کرنے کا شرعی طریقہ کیا ہے؟ قرآن و سنت کی روشنی میں اس کی وضاحت کریں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

دم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ قرآنی آیات یا ادعیہ ماثورہ پڑھ کر اپنے ہاتھ پر پھونک ماری جائے۔پھر اس ہاتھ کو ممکن حد تک اپنے جسم پر پھیرلیا جائے۔ چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا   فرماتی ہیں۔"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  اپنی مرض وفات میں اپنے آپ پر معوذتین :

"قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ اور قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ"

 پڑھ کر دم کرتے تھے پھر جب ایسا کرنا آپ کے لیے دشوار ہو گیا تو میں انہیں پڑھ کر آپ پر دم کیا کرتی تھی ،اور برکت کے لیے آپ کا ہاتھ آپ کے جسم پر پھیردیتی تھی راوی کہتا ہے کہ میں نے پوچھا آپ کس طرح دم کرتے تھے؟ انھوں نے بتایا کہ آپ اپنے ہاتھ پر دم کر کے اسے اپنے چہرے پر پھیرا کرتے تھے۔[1]

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ معوذتین کو بطور دم استعمال کیا جا سکتا ہے اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ انہیں پڑھ کر اپنے ہاتھوں پر پھونک ماری جائے پھر ہاتھوں کو تمام جسم پر پھیرلیا جائے۔(واللہ اعلم)


[1] ۔صحیح بخاری،الطب:5735۔

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد3۔صفحہ نمبر 161

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ