سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(157) عیدین کے موقع پر تکبیرات پڑھنا

  • 19806
  • تاریخ اشاعت : 2017-03-29
  • مشاہدات : 400

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

عیدین کے موقع پر تکبیرات کا آغاز کب کرنا چاہیے اور ان کے کیا الفاظ ہیں نیز عورتیں بھی تکبیرات کہہ سکتی ہیں ؟ کتاب و سنت کے مطابق راہنمائی کریں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

عید الفطر کے موقع پر چاند دیکھ کر تکبیرات کا آغاز کردیا جائے اور نماز عید سے فراغت کے بعد انہیں چھوڑدیا جائے اور عیدالاضحیٰ میں 13ذوالحجہ کی شام تک کہی جائیں ،خاص طور پر عید گاہ جاتے ہوئے بلند آواز سے تکبیریں کہنی چاہئیں عورتوں کو بھی حکم ہے کہ وہ بھی تکبیریں کہیں جیسا کہ حضرت اُم عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا   سے روایت ہے۔"ہمیں حکم دیا جا تا تھا کہ ہم عید کے روز حائضہ عورتوں کو بھی اپنے ساتھ لے جائیں تاکہ وہ تکبیرات کہنے میں لوگوں کے ساتھ شریک ہوں۔[1]

اُ م المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا   دسویں تاریخ میں تکبیرات کہتی تھیں نیز خواتین ابان بن بن عثمان  رحمۃ اللہ علیہ  اور عمرو بن عبد العزیز  رحمۃ اللہ علیہ  کے پیچھے مسجد میں مردوں کے ساتھ تکبیریں کہا کرتی تھیں۔[2]تکبیرات کے الفاظ حسب ذیل ہیں۔

1۔حضرت سلمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی الفاظ یہ ہیں:

" اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا ،"[3]

2۔حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے درج الفاظ کو بیان کیا ہے:

" اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا  اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا  اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا  واجل الله اكبر ولله الحمد"[4]

3۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے یہ الفاظ مروی ہیں۔

"الله أكبر ، الله أكبر الله أكبر لا إله إلا الله ، والله أكبر الله أكبر ولله الحمد"[5]

اگرچہ ان احادیث کے بارے میں محدثین نے کچھ کلام کیا ہےتاہم قرآنی حکم کی بجا آوری میں ان احادیث پر عمل کیا جاسکتا ہے۔(واللہ اعلم)


[1] ۔۔صحیح بخاری ،العید ین:977۔

[2] ۔صحیح بخاری ،تعلیقات قبل حدیث :970۔

[3] ۔بیہقی ،ص:316۔ج3۔

[4] ۔مصنف ابن ابی شیہ ،ص:489۔ج1۔

[5] ۔مصنف ابن ابی شیہ ،ص:488۔ج1۔

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد3۔صفحہ نمبر 154

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ