سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(131) "صلوٰۃ الاوابین"کا وقت

  • 19780
  • تاریخ اشاعت : 2017-03-28
  • مشاہدات : 156

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

صلوٰۃ الاوابین کے متعلق وضاحت فرمائیں کہ اس کاوقت کون سا اور اس کی رکعات کتنی ہیں؟بعض حضرات کہتے ہیں کہ اس کا وقت مغرب اور عشاء کے درمیان ہے جبکہ بعض روایات سے پتہ چلتا ہے کہ صلوٰۃاشراق کو ہی صلوٰۃ الاوابین کہا گیا ہے، اس کے متعلق تفصیل سے لکھیں ۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ" صلوٰۃ الاوابین"ایک مستقل نفلی نماز ہے جو مغرب کے بعد عشاء سے پہلے پڑھی جاتی ہے اس سلسلہ میں درج ذیل دوروایات پیش کی جاتی ہیں۔

1۔حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے مروی ہے کہ" صلوٰۃ الاوابین" جب نمازی اپنی نماز مغرب سے فارغ ہوں تو اس وقت سے لے کر نماز عشاء سے پہلے تک اداکی جاتی ہے۔[1]

سند کے اعتبارسے یہ روایت صحیح نہیں ہے کیونکہ اس میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے جسے امام احمد بن حنبل  رحمۃ اللہ علیہ  اور امام بخاری  رحمۃ اللہ علیہ نے"منکراحادیث"قرار دیا ہے نیز امام ابن معین  رحمۃ اللہ علیہ ،علی بن مدینی  رحمۃ اللہ علیہ ،ابو زرعہ  رحمۃ اللہ علیہ اور امام ابو حاتم رحمۃ اللہ علیہ  نے بھی اسے ضعیف کہا ہے۔[2]

2۔حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے بیان کیا گیا ہے کہ فرشتے ان لوگوں کو گھیرلیتے ہیں جو مغرب اور عشاء کے درمیان نماز پڑھتے ہیں اور یہی " صلوٰۃ الاوابین" ہے۔[3]

لیکن یہ روایت بھی قابل حجت نہیں ہے کیونکہ امام بغوی نے اس روایت کو"صیغہ تمریض"سے بیان کیا ہے جو اس روایت کے ضعیف ہونے کی طرف واضح اشارہ ہے، اس لیے نماز مغرب کے بعد  صلوٰۃ الاوابین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  سے ثابت نہیں ہے بلکہ احادیث کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ صلوٰۃ الضحیٰ کو ہی  صلوٰۃ الاوابین کہا گیا ہے جیسا کہ حضرت زید ارقم  رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:"صلوٰۃ الاوابین"اس وقت پڑھی جاتی ہے جب اونٹ کے بچوں کے پاؤں جلنے لگیں۔"[4]

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے مروی روایت اس سلسلہ میں نص صریح کی حیثیت رکھتی ہے، بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:" نماز ضحیٰ کی حفاظت اداب یعنی اللہ کی طرف رجوع کرنے والا ہی کر سکتا ہے پھر فرمایا کہ یہی  صلوٰۃ الاوابین ہے۔"[5]

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  فرماتے ہیں کہ میرے خلیل یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے مجھے تین کاموں کی وصیت فرمائی تھی میں انہیں کسی حالت میں چھوڑنے والا نہیں ہوں وتر پڑھے بغیر نیند نہ کروں ،صلوٰۃ ضحیٰ کی دو رکعت ترک نہ کروں کیونکہ یہ صلوٰۃ الاوابین ہے اور ہر ماتین روزے رکھوں۔[6]صلوٰۃ ضحیٰ کی دوچار اور آٹھ رکعت ثابت ہیں،جس قدر وقت میسر آئے پڑھ لی جائیں۔

واضح رہے کہ صلوٰۃ ضحیٰ کا دوسرا نام صلوٰۃ اشراق ہے، وقت کے اعتبار سے اس کے دو الگ الگ نام ہیں یعنی اگر سورج طلوع ہونے کے کچھ دیر بعد ادا کریں تو صلوٰۃ اشراق اور اگر سورج اچھی طرح بلند ہو جائے اور دھوپ میں اس قدر شدت آجائے کہ پاؤں جلنے لگیں لیکن زوال سے قبل پڑھیں تو اسے صلوٰۃ ضحیٰ کہا جاتا ہے اسے محدثین نے ضحوۃصغریٰ اور ضحوۃکبریٰ سے بھی تعبیر کیا ہے۔(واللہ اعلم)


[1] ۔مصنف ابن ابی شیہ،ص:197۔ج2۔

[2] ۔تہذیب،319۔ج10۔

[3] ۔شرح السنۃ،ص:474۔ج3۔

[4] ۔صحیح مسلم،الصلوٰۃ:144۔

[5] ۔مستدرک حاکم ،ص:ج1۔

[6] ۔مسند امام احمد،ص:412ج۔3۔

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد3۔صفحہ نمبر 136

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ