سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(520) ٹیلی فون کے استعمال کے لیے کارڈز وغیرہ کو مہنگے دام بیچنا

  • 1978
  • تاریخ اشاعت : 2012-09-05
  • مشاہدات : 572

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
ٹیلی فون کرنے کے لیے یہاں سکے اور کارڈ استعمال ہوتے ہیں حکومتی اداروں سے سکے اور کارڈ پورے پورے پیسوں سے دستیاب ہوتے ہیں جبکہ عمومی دوکاندار دس ریال کے نو سکے اور ایک سو دس ریال کا سو ریال والا کارڈ دیتے ہیں نو سکوں کا معاملہ تو واضح ہے کہ سود ہے آیا کارڈ جو سو میں ملتا ہے اور اس سے سو ریال کا ہی فون ہوتا ہے ایک سو دس کا لینا سود ہو گا جبکہ وہ عین ریال (ورقی) نہیں نہ ہی سکے ہیں؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ٹیلی فون کرنے کے لیے یہاں سکے اور کارڈ استعمال ہوتے ہیں حکومتی اداروں سے سکے اور کارڈ پورے پورے پیسوں سے دستیاب ہوتے ہیں جبکہ عمومی دوکاندار دس ریال کے نو سکے اور ایک سو دس ریال کا سو ریال والا کارڈ دیتے ہیں نو سکوں کا معاملہ تو واضح ہے کہ سود ہے آیا کارڈ جو سو میں ملتا ہے اور اس سے سو ریال کا ہی فون ہوتا ہے ایک سو دس کا لینا سود ہو گا جبکہ وہ عین ریال (ورقی) نہیں نہ ہی سکے ہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

سو ریال والے بطاقہ فون کو ایک سو دس ریال میں خریدنے کا حکم وہی ہے جو نو سکوں کو دس ریال میں خریدنے کا حکم ہے مقصد ہے کہ دونوں سود ہی کی صورتیں ہیں دلیل حکومتی اداروں کا سو ریال  والے بطاقہ کو سو ریال ہی میں دینا ہے بچنے کی تدبیر یہ ہے کہ حکومتی اداروں ہی سے خریدیں نجی اداروں اور دکانداروں سے نہ خریدیں۔

وباللہ التوفیق

احکام و مسائل

خرید و فروخت کے مسائل ج1ص 358

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ