سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(72) نابالغ بچے کی امامت

  • 19721
  • تاریخ اشاعت : 2017-03-28
  • مشاہدات : 196

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا کم عمر بچوں کی امامت صحیح ہے؟جبکہ وہ سن شعور کو پہنچ چکے ہوں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

امامت کے لیے اس شخص کا انتخاب کیا جائے جو قرآن کریم کا حافظ ہو، اس کے متعلق متعدد احادیث مروی ہیں کم سن بچے کی امامت کے متعلق درج ذیل روایت بیان کی جاسکتی ہے۔

حضرت عمرو بن سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کہتے ہیں میرے والد نے اپنی قوم سے کہا کہ میں تمھارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی طرف سے حق لے کر آیا ہوں، آپ نے فرمایا:کہ جب نماز کا وقت ہو جائے تو تم میں سے کوئی اذان کہے اور امامت ایسا شخص کرائے جوقرآن کا زیادہ عالم ہو۔ حضرت عمرو بن سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کہتے ہیں میری قوم نے دیکھا کہ میرے سواکوئی دوسرا مجھ سے زیادہ قرآن کا عالم نہیں ہے تو انھوں نے مجھے جماعت کے لیے آگےکر دیا اس وقت میری عمر چھ یاسات برس تھی۔[1]


[1] ۔صحیح بخاری ،المغازی:4302۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد:3، صفحہ نمبر:95

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ