سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(514) موجودہ بینکاری نظام

  • 1972
  • تاریخ اشاعت : 2012-09-04
  • مشاہدات : 1317

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

سود قرآن کریم کی آخری آیتیں ہیں جن کے نازل ہونے کے کچھ ہی دن بعد نبیﷺ کی وفات ہو گئی تو آپﷺ نے اس کے متعلق وضاحت نہ فرمائی یا یہ سمجھئے کہ وضاحت کی ضرورت ہی نہ تھی کیونکہ دین نبوی مکمل ہو چکا ہے حدیث شریف میں اس کی وضاحت کچھ یوں ہے کہ سونے کے بدلے سونا چاندی کے بدلے چاندی گندم کے بدلے گندم جو کے بدلے جو نمک کے بدلے نمک کھجور کے بدلے کھجور کمی بیشی کے ساتھ لینا دینا جائز نہیں بلکہ سود ہے تو رہا حال مویشیوں کا اس میں اجازت ہے کہ حضرت علی رضي الله عنهنے کسی کو ایک اونٹ دیا اور کچھ عرصہ کے بعد اس کے بدلے ۲۰ چھوٹے اونٹ لیے۔(1) کچھ لوگ کہتے ہیں کہ چند اجناس ہی سود ہیں باقی سب چیزیں مستثنیٰ ہیں تو کیا ہمارے ملک کا نظام اجناس بینک کاری جس کا تعلق ملکی معیشت پر ہے روپے کے بدلے مدت کے بعد زیادہ لیا جاتا ہے اس کو اسلامی کہیں گے یا سودی کیونکہ صرف سود چھ مذکورہ چیزوں میں ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

آپ کی ساری تحریر میں اصل سوال موجودہ بینکاری نظام کے متعلق دریافت کرنا ہے آیا یہ سود ہے یا  نہیں ؟ تو جواب بتوفیق اللہ تعالیٰ مندرجہ ذیل ہے۔

موجودہ رائج بینکاری نظام سراسر ربوی سودی نظام ہے جو حرام ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

 ﴿وَأَحَلَّ ٱللَّهُ ٱلۡبَيۡعَ وَحَرَّمَ ٱلرِّبَوٰاْۚ﴾--بقرة275

’’اللہ نے تجارت کو جائز کیا ہے اور سود کو حرام‘‘ نیز فرمایا :

﴿وَإِن تُبۡتُمۡ فَلَكُمۡ رُءُوسُ أَمۡوَٰلِكُمۡ لَا تَظۡلِمُونَ وَلَا تُظۡلَمُونَ﴾--بقرة279

’’اور اگر باز آئو تو اصل مال تم کو مل جائیں گے نہ ظلم کرو نہ تم پر ظلم ہو گا‘‘ اللہ تعالیٰ ہم سب کو کتاب وسنت پر صحیح معنوں میں عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

    ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب


(1)(مؤطا إمام مالک۔ کتاب البیوع باب ما یجوز من بیع الحیوان بعضہ ببعض والسلف فیہ نوٹ) اس روایت کی تمام اسناد موقوف ومنقطع ہیں کیونکہ حسن بن محمد کی حضرت علی سے ملاقات ثابت نہیں ہے۔ یہ تحقیق الشیخ حافظ عمران عریف صاحب کی ہے۔

احکام و مسائل

خرید و فروخت کے مسائل ج1ص 355

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ