سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(513) سود کے بارے میں..!

  • 1971
  • تاریخ اشاعت : 2012-09-04
  • مشاہدات : 1062

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

سود کی تعریف کریں حدیث مبارکہ میں تو بار بار سونا چاندی گندم جو کھجور نمک ان چھ چیزوں کی کمی بیشی نقد یا ادھار منع ہے لیکن کچھ چیزیں ایسی ہیں جن کا تبادلہ کمی بیشی کے ساتھ جائز ہے مثلاً مویشی کے بدلے مویشی لینا دینا اونٹ کے بدلے دو اونٹ لیے دیے گئے لیکن کچھ لوگ ان ہی چھ چیزوں کو سود کی تعریف میں لاتے ہیں باقی سب چیزیں مستثنیٰ ہیں ۔

ایک گروہ کہتا ہے کہ یہ حکم سونا چاندی اور کھانے کی ان چیزوں کے لیے ہے جن کا لین دین وزن اور پیمانہ سے ہوتا ہے۔  ایک گروہ کہتا ہے یہ حکم مخصوص ہے ان چیزوں کے ساتھ جو غذا کے کام آتی ہیں اور ذخیرہ کر کے رکھی جاتی ہیں ان میں علت تحریم درہم دینار کا وزن ہے یہ امام مالک کا مذہب ہے اور بعض کہتے ہیں کہ قیمت اس کی علت ہے علت کے اس اختلاف کی وجہ سے معاملات کے اندر اہل علم کا اختلاف ہو گیا ہے۔

موطا کی ایک حدیث ہے کہ حضرت علی رضي الله عنه نے ایک اونٹ کے بدلے ۲۰ بیس اونٹ لیے اور ایک مدت کے بعد لیے۔ جانوروں کے تبادلہ میں کمی بیشی خود نبیﷺنے کی اور بعد میں صحابہ رضي الله عنهم نے کی کیونکہ جانوروں کی قدروقیمت میں بڑا فرق ہوتا ہے محترم حافظ صاحب ان تمام چیزوں کی وضاحت فرما دیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

آپ نے سود کی تعریف پوچھی ہے تو محترم مجھے سود کی تعریف کتاب وسنت میں نہیں ملی جیسے زنا ہے اس کی  تعریف بھی کتاب وسنت میں مجھے کہیں نہیں ملی البتہ دونوں کی حرمت کتاب وسنت میں جابجا مذکور ہے چھ چیزوں میں جو علل اہل علم نے بیان فرمائی ہیں ان میں سے جو علت بھی موجود ہو سود بن جائے گا رسول اللہﷺ نے ان علل میں سے کسی ایک کی تخصیص نہیں فرمائی جو صورتیں آپ کو سود میں شامل نظر آتی ہیں مگر حدیث میں ان کی حلت ثابت ہو چکی ہے وہ سود میں شامل نہیں یا حکم سود سے مستثنیٰ ہیں۔

    ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

احکام و مسائل

خرید و فروخت کے مسائل ج1ص 354

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ